السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4140. -- باب:: الشاعر يشبب بامرأة بعينها ليست مما يحل له وطؤها فيكثر فيها ويبتهرها
-- باب: وہ شاعر جو کسی ایسی مخصوص عورت کے بارے میں عشقیہ اشعار کہے جس سے قربت اس کے لیے حلال نہ ہو، پھر وہ اس میں کثرت کرے اور اس پر جھوٹا دعویٰ (یا تہمت) باندھے۔
حدیث نمبر: Q21139
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" رُدَّتْ شَهَادَتُهُ".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس کی گواہی رد کر دی جائے گی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q21139]
حدیث نمبر: 21139
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ، فَإِنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا"، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ شُعْبَةُ فِي حَدِيثِهِ:" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ:" أَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ"، فَقَامَ ذَلِكَ، أَوْ غَيْرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ"، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا الْبَادِي فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ، وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً، وَأَفْضَلُهُمَا أَجْرًا". وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَنَادَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْ يُعْقَرَ جَوَادُكَ، وَيُهْرَاقَ دَمُكَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت والے دن اندھیروں کی شکل میں ہوگا اور فحش گوئی سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی کو پسند نہیں فرماتا اور بخل سے بچو کیونکہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر دیا، اس نے ان کو قطع رحمی، بخل اور گناہ کا حکم دیا تو انہوں نے یہ کام کیے۔“ ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سا اسلام افضل ہے؟“ امام شعبہ رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔“ امام مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔“ پھر وہی شخص یا اس کے علاوہ دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی ہجرت افضل ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو تیرا رب ناپسند کرے اس کو چھوڑ دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کی دو قسمیں ہیں: 1 شہری آدمی کا ہجرت کرنا، 2 دیہاتی کا ہجرت کرنا۔“
”دیہاتی دعوت کو قبول کرے گا جب اس کو بلایا جائے گا اور حکم کی تعمیل کرے گا جب اس کو حکم دیا جائے گا، اور شہری کی آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔“
امام مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! افضل شہید کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے گھوڑے کی کونچیں پھاڑ دی جائیں اور خون بہا دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21139]
”دیہاتی دعوت کو قبول کرے گا جب اس کو بلایا جائے گا اور حکم کی تعمیل کرے گا جب اس کو حکم دیا جائے گا، اور شہری کی آزمائش بڑی ہوتی ہے اور اس کا اجر بھی زیادہ ہوتا ہے۔“
امام مسعودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! افضل شہید کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے گھوڑے کی کونچیں پھاڑ دی جائیں اور خون بہا دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21139]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ الطيالسي 2386»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21140
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِئِ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن لعن طعن کرنے والا اور فحش گوئی کرنے والا نہیں ہوتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21140]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21141
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ ⦗٤١٢⦘ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْمُجَالِدِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كُنَّا نَتَنَاشَدُ الْأَشْعَارَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَأَقْبَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْنَا، فَقَالَ: أَفِي حَرَمِ اللهِ، وَعِنْدَ كَعْبَةِ اللهِ تَتَنَاشَدُونَ الشِّعْرَ؟ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ مَعَنَا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، إِنَّهُ لَيْسَ بِكَ بَأْسٌ إِنْ لَمْ تَفْسَدْ نَفْسُكَ، إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نَهَى عَنِ الشِّعْرِ إِذَا أُبِّنَتْ فِيهِ النِّسَاءُ، وَبُذِّرَ فِيهِ الْأَمْوَالُ.
امام شعبی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ ہم بیت اللہ کے پاس اشعار پڑھ رہے تھے۔ ہمارے پاس ابن زبیر رضی اللہ عنہما آئے اور فرمانے لگے: کیا اللہ کے حرم اور بیت اللہ کے پاس تم اشعار پڑھ رہے ہو؟ تو ایک انصاری صحابی جو ہمارے ساتھ موجود تھے، کہنے لگے کہ اے ابن زبیر! کوئی حرج نہیں اگر آپ اپنے آپ کو خراب نہ کریں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ”ان اشعار سے منع کرتے تھے، جن کا موضوع عورتیں ہوں اور اس میں مال خرچ کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21141]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف