🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4215. -- باب:: ما جاء في إعتاق الكافر وتدبيره.
-- باب: کافر کے غلام آزاد کرنے اور اسے مدبر بنانے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21596
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ عَتَاقَةٍ وَصِلَةِ رَحِمٍ، هَلْ لِي فِيهَا مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَعْمَرٍ.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ، سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے ان کاموں کے بارے میں جو میں جاہلیت میں عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا، یعنی غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی، کیا مجھے ان میں کوئی اجر ملے گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اسلام قبول کیا ہے اس پر جو بھلائی پہلے گزر چکی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُدَبَّرِ/حدیث: 21596]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21597
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ شَيْئًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ هِشَامٌ: يَعْنِي: أَتَبَرَّرُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْلَمْتَ عَلَى صَالِحِ مَا سَلَفَ ⦗٥٣٤⦘ لَكَ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِلَّهِ إِلَّا صَنَعْتُ لِلَّهِ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ، قَالَ: فَكَانَ أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ، فَأَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهَا مِائَةَ رَقَبَةٍ، وَسَاقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ بَدَنَةٍ، وَسَاقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ بَدَنَةٍ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ.
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا کیا خیال ہے، ان کاموں کے بارے میں جو میں جاہلیت میں عبادت کے طور پر کیا کرتا تھا؟ ہشام کہتے ہیں: یعنی میں انہیں نیکی کے طور پر کرتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اس بھلائی پر اسلام قبول کیا جو پہلے گزر چکی۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کام میں جاہلیت خالص اللہ کے لیے کیا کرتا تھا، اسلام کے اندر بھی ویسے ہی کروں گا۔ انہوں نے جاہلیت میں سو غلام آزاد کیے تھے تو قبولِ اسلام کے بعد بھی سو غلام آزاد کیے۔ اگر جاہلیت میں سو اونٹ کی قربانی دی تھی تو اسلام میں بھی سو اونٹ کی قربانی دی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُدَبَّرِ/حدیث: 21597]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں