السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4228. -- باب:: المكاتب عبد ما بقي عليه درهم
-- باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
حدیث نمبر: 21645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ الضَّرِيرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ:" مَنْ هَذَا؟"، فَقُلْتُ: سُلَيْمَانُ، قَالَتْ:" كَمْ بَقِيَ عَلَيْكَ مِنْ مُكَاتَبَتِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: عَشْرُ أَوَاقٍ، قَالَتْ:" ادْخُلْ، فَإِنَّكَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ".
سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: سلیمان۔ پوچھا: تیری مکاتبت کی کتنی رقم باقی ہے؟ میں نے کہا: ١٠ اوقیے۔ فرمایا: آجاؤ۔ آپ غلام ہی ہیں، جب تک آپ کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21645]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21646
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَدَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا سَبْلَانَ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ يَذْكُرُ أَنَّهُ كَانَ يَكْرِي عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، قَالَ: فَكَاتَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَوَقَفْتُ بِالْبَابِ، فَاسْتَأْذَنْتُ اسْتِئْذَانًا لَمْ أَكُنْ أَسْتَأْذِنُهُ، فَأَنْكَرَتْ ذَلِكَ وَقَالَتْ:" يَا بُنِيَّ، مَا لَكَ لَا تَدْخُلُ؟"، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي كَاتَبْتُ، قَالَتْ:" فَادْخُلْ عَلَيَّ مَا كَانَ عَلَيْكَ دِرْهَمٌ، فَإِنَّكَ لَا تَزَالُ مَمْلُوكًا مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ كِتَابَتِكَ دِرْهَمٌ"..
سعید بن مسلم مدنی فرماتے ہیں کہ میں نے نصریوں کے آزاد کردہ غلام سالم سبلان سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ وہ حج اور عمرہ کے سفر میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سواری کرایہ پر دیا کرتے تھے، کہتے ہیں کہ میں نے مکاتبت کر لی، پھر میں دروازے کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور اس طرح اجازت طلب کی جس طرح پہلے نہیں کیا کرتا تھا، تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا اور کہنے لگیں: اے بیٹے! تم داخل کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کہا: اے ام المومنین! میں نے مکاتبت کر لی ہے، فرمانے لگیں: آپ گھر میں آیا کریں، جب تک آپ کے ذمے ایک درہم بھی باقی ہے، آپ غلام ہی رہیں گے جب تک آپ کی مکاتبت سے ایک درہم بھی باقی رہے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21646]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 21647
قَالَ أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" إِنْ كُنَّ أُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ لَيَكُونُ لِبَعْضِهِنَّ الْمُكَاتَبُ فَتَكْشِفُ لَهُ الْحِجَابَ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ، فَإِذَا قَضَى أَرْخَتْهُ دُونَهُ".
عبدالرحمٰن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن اپنے مکاتب غلام سے پردہ نہیں کرتی تھیں، جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی ہو۔ جب وہ پیسے ادا کر لیتا تو پردہ شروع کر دیتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21647]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21648
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرُوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ:" كَانَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْتَجِبْنَ مِنْ مُكَاتَبٍ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِينَارٌ". وَاخْتَلَفَتِ الرِّوَايَاتُ فِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرُوِيَ عَنْهُ كَمَا:.
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں رضی اللہ عنہن اپنے مکاتب غلام سے پردہ نہیں کرتی تھیں، جب تک ایک دینار بھی ان کے ذمہ باقی رہتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21648]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21649
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٥٤٧⦘ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ".
معبد جہنی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مکاتب غلام ہی ہے جب تک اس کے ذمہ ایک درہم بھی باقی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21649]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21650
وَرُوِيَ عَنْهُ، كَمَا: أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ السُّوَائِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِذَا أَدَّى الْمُكَاتَبُ النِّصْفَ لَمْ يُسْتَرَقَّ" الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَا يَثْبُتُ سَمَاعُهُ مِنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَهُوَ إِنْ صَحَّ فَكَأَنَّهُ أَرَادَ أَنَّهُ قَدْ قَرُبَ أَنْ يَعْتِقَ، فَالْأَوْلَى أَنْ يُمْهَلَ حَتَّى يَكْتَسِبَ مَا بَقِيَ، وَلَا يَرُدَّ إِلَى الرِّقِّ بِالْعَجْزِ عَنِ الْبَاقِي، وَاللهُ أَعْلَمُ..
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مکاتب نصف قیمت ادا کر دے تو وہ غلام نہیں رہتا۔
نوٹ: قاسم بن عبدالرحمٰن کا جابر بن سمرہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو ان کا ارادہ یہ ہے کہ جب وہ آزادی کے قریب پہنچ جائے تو اس کو مہلت دینی چاہیے کہ وہ کما کر باقی ادا کر دے نہ کہ دوبارہ غلامی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21650]
نوٹ: قاسم بن عبدالرحمٰن کا جابر بن سمرہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ اگر یہ روایت صحیح ہو تو ان کا ارادہ یہ ہے کہ جب وہ آزادی کے قریب پہنچ جائے تو اس کو مہلت دینی چاہیے کہ وہ کما کر باقی ادا کر دے نہ کہ دوبارہ غلامی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21650]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21651
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: طَلَّقَ مُكَاتَبٌ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَنْزَلَهُ مَنْزِلَةَ الْعَبْدِ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مکاتب غلام نے اپنی بیوی کو عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں طلاق دے دی تو انہوں نے اس کے ساتھ غلام والا معاملہ کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21651]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح