🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4247. -- باب: ميراث المكاتب وولائه
-- باب: مکاتب کی وراثت اور اس کی ولاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21746
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْنَا لِابْنِ طَاوُسٍ: كَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ الرَّجُلَ ثُمَّ يَمُوتُ فَتَرِثُ ابْنَتُهُ ذَلِكَ الْمُكَاتَبَ فَيؤَدِّي كِتَابَتَهُ ثُمَّ يُعْتَقُ، ثُمَّ يَمُوتُ؟ قَالَ: كَانَ يَقُولُ:" وَلَاؤُهُ لَهَا"، وَيَقُولُ:" مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُخَالِفَ عَنْ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ"، وَيَعْجَبُ مِنْ قَوْلِهِمْ: لَيْسَ لَهَا وَلَاءٌ..
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن طاؤس رحمہ اللہ سے کہا کہ آپ کے والد (طاؤس رحمہ اللہ) کیا فرماتے ہیں کہ جب آدمی غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے، اس مکاتبت کی بچی وارث ہو گی، وہ اپنی کتابت اس کو ادا کرے گا، پھر وہ آزاد کیا جائے گا، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے، تو وہ فرماتے ہیں کہ ولاء اس بچی کی ہو گی۔ میرا گمان ہے کہ کوئی بھی اس کی مخالفت نہ کرے گا اور ان کے قول سے تعجب ہے کہ اس کی ولاء نہ ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21746]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21747
وَبِإِسْنَادِهِ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَيْنِ لَهُ، وَتَرَكَ مُكَاتَبًا، فَصَارَ الْمُكَاتَبُ لِأَحَدِهِمَا، ثُمَّ قَضَى كِتَابَتَهُ لِلَّذِي صَارَ لَهُ فِي الْمِيرَاثِ، ثُمَّ مَاتَ الْمُكَاتَبُ، مَنْ يَرِثُهُ؟ قَالَ:" يَرِثَانِهِ جَمِيعًا". وَقَالَهَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ عَطَاءٌ:" رَجَعَ وَلَاؤُهُ إِلَى الَّذِي كَاتَبَهُ"، فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِ، وَقَالَ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَبِقَوْلِ عَطَاءٍ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ نَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ يُكَاتِبُهُ الرَّجُلُ ثُمَّ يَمُوتُ السَّيِّدُ ثُمَّ يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ فَيُعْتَقُ بِالْكِتَابَةِ: إِنَّ وَلَاءَهُ لِلَّذِي عَقَدَ كِتَابَتَهُ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَقُلْ بِقَوْلِهِ فِي قِسْمَةِ الْمُكَاتَبِ، قَالَ مِنْ قَبْلُ: إِنَّ الْقَسْمَ بَيْعٌ، وَبَيْعُ الْمُكَاتَبِ لَا يَجُوزُ..
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: ایک آدمی فوت ہو گیا، اس نے دو بیٹے اور ایک مکاتب کو چھوڑا۔ پھر مکاتب دونوں میں سے ایک کے حصے میں آیا، اس نے اپنی کتابت اسی کو ادا کی جس کے حصے میں وہ میراث میں آیا تھا۔ پھر مکاتب فوت ہو گیا، اس کا وارث کون ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: وہ دونوں اس کے وارث ہیں، اور عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا۔ عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی ولاء اس کی طرف لوٹے گی جس نے اس سے کتابت کی تھی۔ میں نے یہ بات ان کے سامنے دوبارہ دہرائی تو انہوں نے کئی مرتبہ یہی کہا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم عطاء اور عمرو بن دینار رحمہما اللہ کے قول کے مطابق کہتے ہیں کہ جب ایک شخص نے کسی سے مکاتبت کی، پھر مالک فوت ہو گیا، پھر مکاتب نے اپنی کتابت ادا کر کے آزادی حاصل کی تو ولاء اس کی ہو گی جس نے کتابت کا معاہدہ کیا تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ نے مکاتب کی تقسیم کے بارے میں ان کا قول اختیار نہیں کیا، کیونکہ وہ پہلے فرما چکے ہیں کہ تقسیم تو بیع ہے اور مکاتب کی بیع جائز نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21747]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21748
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ وَلَهُ عَبْدٌ مُكَاتَبٌ وَلِلْمُتَوَفَّى بَنُونَ وَبَنَاتٌ؟ قَالَ:" يَرِثُونَ مِمَّا عَلَى ظَهْرِهِ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ، وَلَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا كَاتَبْنَ أَوْ أَعْتَقْنَ".
عبدالملک بن ابی سلیمان رحمہ اللہ، حضرت عطاء رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ فوت ہو گیا، اس کا مکاتب غلام تھا، فوت ہونے والے کے بیٹے اور بیٹیاں تھیں تو جو کچھ اس (مکاتب) کے ذمہ ہے اس کے وارث عورتیں اور مرد سب ہوں گے، لیکن عورتیں ولاء کی وارث صرف اسی کی ہو سکتی ہیں جس سے انہوں نے خود کتابت کی ہو یا جسے آزاد کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21748]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21749
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا فِي الرَّجُلِ يُكَاتِبُ مَمْلُوكَهُ ثُمَّ يَمُوتُ وَيَتْرُكُ بَنِينَ رِجَالًا وَنِسَاءً فَيؤَدِّي الْمُكَاتَبُ إِلَيْهِمْ كِتَابَتَهُ، قَالَا:" الْوَلَاءُ لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ" وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقُولُ ذَلِكَ..
سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہما اللہ ایک ایسے آدمی کے متعلق فرماتے ہیں جو اپنے غلام سے مکاتبت کرتا ہے، پھر وہ فوت ہو جاتا ہے اور اپنے پیچھے بیٹے اور عورت چھوڑتا ہے، تو مکاتب اپنی کتابت ان کو ادا کرتا ہے۔ وہ دونوں فرماتے ہیں کہ ولاء صرف مردوں کو ملے گی، عورتوں کو نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21749]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21750
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي رَجُلٍ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ ثُمَّ مَاتَ الرَّجُلُ الَّذِي كَاتَبَ وَتَرَكَ رِجَالًا وَنِسَاءً، قَالَ:" لَيْسَ لِلنِّسَاءِ مِنْ وَلَاءِ ⦗٥٧٢⦘ الْمُكَاتَبِ شَيْءٌ، وَالْمِيرَاثُ بَيْنَهُمْ"، يَعْنِي الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ..
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کتابت کی۔ مکاتبت کرنے والا شخص مر گیا، اس نے مرد اور عورتیں چھوڑیں۔ فرماتے ہیں کہ مکاتب کی ولاء سے عورتوں کو کچھ بھی نہ ملے گا، لیکن میراث مردوں اور عورتوں میں تقسیم ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21750]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21751
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ مُكَاتَبًا فَأَعْتَقَ الْوَرَثَةُ الْمُكَاتَبَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، لِمَنِ الْوَلَاءُ؟ قَالَ:" لِلْمُكَاتَبِ الْمَيِّتِ".
مغیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ آدمی فوت ہو جائے، اس کے مکاتب کو چھوڑا تو ورثاء نے مکاتب کو آزاد کر دیا تو ولاء کس کا حق ہے؟ فرمایا: میت کا حق ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21751]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں