🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3. بَابٌ مِنْهُ .
اس (مضمون) سے متعلق دیگر روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 64
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمُنْذِرِ بْنِ سَاوَى:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَاكُمُ الْمُسْلِمُ، لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْحَسَنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحُلْوَانِيُّ، وَلَمْ أَرَ أَحَدًا ذَكَرَهُ، وَهُوَ أَيْضًا مِنْ رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مندر بن ساویٰ کو خط میں یہ لکھا تھا: جو شخص ہماری نماز ادا کرے، اور وہ ہمارا ذبیحہ کھائے، تو وہ مسلمان شمار ہو گا، اور اُس کے لئے اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ (ثابت) ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ادریس حلوانی ہے، (علامہ ہیثمی کہتے ہیں:) میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا، نیز یہ روایت ابوعبیدہ نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے نقل کی ہے، حالانکہ انہوں (یعنی ابوعبیدہ) نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 64]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 65
وَعَنْ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَذَاكَ الْمُسْلِمُ، لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ التَّمَّارُ لَمْ أَقِفْ لَهُ عَلَى تَرْجَمَةٍ.
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص ہماری نماز ادا کرے، اور ہمارے قبلہ کی طرف رُخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے، وہ مسلمان شمار ہو گا، اُس کے لیے اللہ کا، اور اُس کے رسول کا ذمہ (ثابت) ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، عبید بن عبیدہ تمار، نامی راوی کے حالات سے میں واقف نہیں ہو سکا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 65]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 66
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاعِزٍ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" إِنَّ مَاعِزًا أَسْلَمَ أَحْرَزَ مَالَهُ، وَإِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْهِ إِلَّا يَدُهُ"، فَبَايَعْتُ عَلَى ذَلِكَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ هُنَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.
سیدنا عبداللہ بن ماعز رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ماعز نے اسلام قبول کیا، تو اپنا مال محفوظ کر لیا، اب اُس کے خلاف صرف اُس کا اپنا ہاتھ ہی جنایت کرے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو اس بات پر، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہنید بن قاسم ہے اور وہ مجہول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْإِيمَانِ/حدیث: 66]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں