مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ مَا يَقُولُ عِنْدَ الْخَلَاءِ .
قضائے حاجت کے وقت کیا پڑھا جائے؟
حدیث نمبر: 1006
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا وَضَعُوا ثِيَابَهُمْ - أَنْ يَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا فِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا فِيهِ سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأُمَوِيُّ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ عَدِيٍّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جنات کی آنکھوں اور بنی نوع انسان کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یوں ہو سکتا ہے کہ جب انسان کپڑے کو ہٹانے لگے، تو بسم اللہ پڑھ لے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ اموی ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ ابن حبان اور ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1006]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی سعید بن مسلمہ اموی ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ ابن حبان اور ابن عدی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «المعجم الأوسط للطبراني باب الالف، باب من اسمه إبراهيم 2554»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف