مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ الْبَوْلِ قَائِمًا .
کھڑے ہو کر پیشاب کرنا
حدیث نمبر: 1015
عَنْ عُمَرَ قَالَ: مَا بُلْتُ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے، کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1015]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1015]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 1016
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبُولُ قَائِمًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد بن ابوحازم ہے، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1016]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد بن ابوحازم ہے، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1016]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1017
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: بَيْنَا سَعْدٌ يَبُولُ قَائِمًا إِذِ اتَّكَأَ فَمَاتَ، قَتَلَتْهُ الْجِنُّ فَقَالُوا: نَحْنُ قَتَلْنَا سَيِّدَ الْخَزْرَجِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَهْ قَدْ رَمَيْنَاهُ بِسَهْمَيْنِ فَلَمْ نُخْطِئْ فُؤَادَهْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَابْنُ سِيرِينَ لَمْ يُدْرِكْ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ.
ابن سیرین بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پیشاب کر رہے تھے، اسی دوران انہوں نے سہارا لیا اور انتقال کر گئے، انہیں جنات نے قتل کیا تھا، ان جنات نے یہ کہا: ہم نے خزرج قبیلے کے سردار سعد بن عبادہ کو قتل کر دیا ہے، ہم نے انہیں دو تیر مارے، جو سیدھے اُن کے دل پر لگے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، ابن سیرین نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1017]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، ابن سیرین نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1017]
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 1018
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَبُولُ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: إِنِّي لَأَجِدُ فِي ظَهْرِي شَيْئًا، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَ فَنَاحَتِ الْجِنُّ، فَقَالُوا: نَحْنُ قَتَلْنَا سَيِّدَ الْخَزْرَجِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَهْ وَرَمَيْنَاهُ بِسَهُمٍ فَلَمْ يُخْطِ فُؤَادَهْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكْ سَعْدًا أَيْضًا.
قتادہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ) کھڑے ہو کر پیشاب کیا، جب واپس آئے تو بولے: مجھے اپنی پشت میں کوئی چیز محسوس ہو رہی ہے، کچھ دن کے بعد ان کا انتقال ہو گیا، تو جنات نے ان کا نوحہ کرتے ہوئے یہ کہا: ہم نے خزرج قبیلے کے سردار سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ہے، ہم نے انہیں تیر مارا، جو سیدھا اُن کے دل پر لگا۔:
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، قتادہ نے بھی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1018]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، قتادہ نے بھی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1018]
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع