مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ الْوُضُوءِ بِالْمَاءِ الْمُسَخَّنِ .
گرم کئے گئے پانی کے ذریعے وضو کرنا
حدیث نمبر: 1073
عَنْ سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ - أَنَّهُ كَانَ يُسَخَّنُ لَهُ الْمَاءُ فَيَتَوَضَّأُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا إِنِّي لَمْ أَعْرِفْ مُحَمَّدَ بْنَ يُونُسَ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا إِنِّي لَمْ أَعْرِفْ مُحَمَّدَ بْنَ يُونُسَ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: اُن کے لیے پانی گرم کیا جاتا تھا، تو وہ (اُس گرم پانی کے ذریعے) وضو کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ میں (یعنی علامہ ہیثمی) محمد بن یونس سے واقف نہیں ہوں، جو امام طبرانی کے استاد ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1073]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ میں (یعنی علامہ ہیثمی) محمد بن یونس سے واقف نہیں ہوں، جو امام طبرانی کے استاد ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1073]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1074
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: كَانَ أَبُو رَفَاعَةَ يُسَخِّنُ الْمَاءَ لِأَصْحَابِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ مِنْ هَذَا، فَسَأُحْسِنُ مِنْ هَذَا، فَيَتَوَضَّأُ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے لیے پانی گرم کرتے تھے اور پھر یہ فرماتے تھے: اس کے ذریعے اچھی طرح وضو کرو، میں اس سے بھی زیادہ اچھی طرح وضو کروں گا، (راوی بیان کرتے ہیں:) اور پھر وہ خود ٹھنڈے پانی کے ذریعے وضو کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1074]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1074]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔