مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. بَابُ الِاحْتِلَامِ .
احتلام کا بیان
حدیث نمبر: 1446
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا احْتَلَمَ نَبِيٌّ قَطُّ، إِنَّمَا الِاحْتِلَامُ مِنَ الشَّيْطَانِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کسی بھی نبی کو کبھی احتلام نہیں ہوا، کیونکہ احتلام شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابوثابت ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1446]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابوثابت ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1446]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1447
وَعَنْ سَهْلَةَ بِنْتِ سُهَيْلٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا احْتَلَمَتْ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیده سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اُنہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم عورتوں میں سے کسی ایک کو اگر احتلام ہو جائے، تو کیا وہ غسل کرے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جی ہاں! جب وہ پانی (یعنی احتلام کا نشان دیکھے)
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1447]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1447]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1448
وَعَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَصْنَعُ الشَّيْءَ تَعْطِفُ بِهِ زَوْجَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا، وَلَا خَلَاقَ فِي الْآخِرَةِ". قَالَتْ: أَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي مَنَامِهَا الِاحْتِلَامَ، أَتَغْتَسِلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
اس خاتون کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا، جو کوئی ایسا کام کرتی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے شوہر کو حرام کر لے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دنیاوی فائدہ ہے، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا، اس خاتون نے عرض کی: ایسی عورت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ جو خواب میں احتلام دیکھتی ہے، کیا وہ غسل کرے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب وہ پانی (یعنی احتلام کا نشان دیکھے گی) تو وہ غسل کرے گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1448]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1448]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 1449
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَأَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ - وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ وَأَنْزَلَتْ فَلْتَغْتَسِلْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ الْأَيْلِيُّ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ، جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں، اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اُنہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر عورت بھی وہ چیز دیکھے، جو مرد دیکھتا ہے (یعنی اگر عورت کو احتلام ہو جائے، تو کیا حکم ہے؟) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب عورت وہ چیز دیکھے اور اُسے انزال ہو جائے، تو اُسے غسل کرنا چاہیے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ایلی ہے، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، محمد بن سعد نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1449]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ایلی ہے، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، محمد بن سعد نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1449]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1450
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: كَانَتْ مُجَاوِرَةً أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِذَا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّ زَوْجَهَا جَامَعَهَا فِي الْمَنَامِ، أَتَغْتَسِلُ؟ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: تَرِبَتْ يَدَاكِ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، وَإِنَّا أَنْ نَسْأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّا أُشْكِلَ عَلَيْنَا خَيْرٌ مِنْ أَنْ نَكُونَ مِنْهُ عَلَى عَمْيَاءَ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" بَلْ أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ، عَلَيْهَا الْغُسْلُ إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ". فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ لِلْمَرْأَةِ مَاءٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَأَنَّى يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا؟ هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ، اپنی دادی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پڑوس میں رہتی تھیں، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کہ اگر کوئی عورت خواب میں یہ دیکھتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کر رہا ہے، تو کیا وہ عورت غسل کرے گی؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ام سلیم! تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، تم نے اللہ کے رسول کے سامنے عورتوں کو شرمندہ کر دیا ہے، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا ہے، ہمیں جس معاملے میں الجھن درپیش ہوتی ہے، اُس کے بارے میں، ہم اللہ کے رسول سے سوال کر لیں، یہ اس سے بہتر ہے کہ ہم اُس کے حوالے سے اندھیرے میں رہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ام سلمہ! بلکہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، ایسی عورت پر غسل لازم ہو گا، جب وہ پانی (یعنی احتلام کا نشان) پاتی ہے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کیا عورت کا بھی پانی (یعنی احتلام کا مواد) ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اُس (عورت) کا بچہ کس وجہ سے اُس سے مشابہت رکھتا ہے؟ یہ عورتیں بھی مردوں کی طرح ہوتی ہیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، یہ ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے، اسحاق نامی راوی نے سیدہ ام سلیم سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1450]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، یہ ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے، اسحاق نامی راوی نے سیدہ ام سلیم سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1450]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1451
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَحْتَلِمُ، هَلْ عَلَيْهَا غُسْلٌ؟ فَقَالَ:" نَعَمْ، إِذَا وَجَدَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: كَانَ يَكْذِبُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: كَانَ يَكْذِبُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا: جسے احتلام ہو جاتا ہے، کیا اس پر غسل لازم ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! جب وہ پانی (یعنی احتلام کا نشان) دیکھے، تو اُسے غسل کرنا چاہیے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے، ابوحاتم بیان کرتے ہیں: یہ جھوٹ بولتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1451]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے، ابوحاتم بیان کرتے ہیں: یہ جھوٹ بولتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1451]
الحكم على الحديث: إسنادہ موضوع
حدیث نمبر: 1452
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ:" إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ". قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا فُلَانَةُ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" دَعِيهَا، فَإِنَّ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ يَسْأَلْنَ عَنِ الْفِقْهِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّفَاوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ: إِنَّهُ مُدَلِّسٌ فَقَطْ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّفَاوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ: إِنَّهُ مُدَلِّسٌ فَقَطْ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ایسی عورت کے بارے میں دریافت کیا، جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب عورت یہ چیز دیکھے، تو اُسے غسل کرنا چاہیئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے فلانہ! تم نے عورتوں کو شرمندہ کر دیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے رہنے دو! انصار کی خواتین دینی احکام کے بارے میں سوال کرتی ہیں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید طفاوی ہے اور وہ ضعیف ہے، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے: یہ صرف تدلیس کرتا ہے، اور
یہ روایت بھی اُس نے ”عنعنہ“ کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1452]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبید طفاوی ہے اور وہ ضعیف ہے، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے: یہ صرف تدلیس کرتا ہے، اور
یہ روایت بھی اُس نے ”عنعنہ“ کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1452]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1453
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ امْرَأَةٍ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنْ أَنْزَلَتْ كَمَا يُنْزِلُ الرَّجُلُ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ، وَإِنْ لَمْ تُنْزِلْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ - وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ - وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا: جو خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے، جو مرد دیکھتا ہے، اور اس عورت کو احتلام ہو جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اسے اسی طرح انزال ہو جاتا ہے، جس طرح مرد کو انزال ہوتا ہے، تو اُس پر غسل واجب ہو گا؟ اور اگر اُسے انزال نہیں ہوتا، تو اُس پر کوئی چیز لازم نہیں ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، یہ ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالله بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1453]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، یہ ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالله بن عیسیٰ خزاز ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1453]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لشواہدہ فی الصحیح۔