مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا كُلُّهَا .
ظہر کا وقت
حدیث نمبر: 1704
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ جَهَنَّمَ فِي قَرْنِ شَيْطَانٍ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، فَمَا تَرْتَفِعُ مِنْ قَصَبَةٍ إِلَّا فُتِحَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا كُلُّهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورج، جہنم سے، شیطان کے سینگ میں (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، جیسے ہی وہ ایک قصبہ (پیمائش کا مخصوص پیمانہ) جتنا بلند ہوتا ہے، تو جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ جب تک گرمی شدید ہو جائے، تو اُس وقت اس کے تمام دروازے کھول دیے گئے ہوتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے، اور وہ روایت اس باب میں آئے گی، جس میں اُن اوقات کا تذکرہ ہے، جن میں نماز ادا کرنا مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1704]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے، یہ ایک اور سند کے ساتھ بھی منقول ہے، اور وہ روایت اس باب میں آئے گی، جس میں اُن اوقات کا تذکرہ ہے، جن میں نماز ادا کرنا مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1704]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 1705
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَارِيَةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ سَلِيطٍ عَنْهُ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ ابْنَ سَلِيطٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ سَلِيطٍ عَنْهُ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ ابْنَ سَلِيطٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبدالرحمن بن جاریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ظہر کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو!“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن سلیط کی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے، میں نے کسی کو ابن سلیط کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1705]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابن سلیط کی سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے، میں نے کسی کو ابن سلیط کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1705]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1706
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ، وَمَا نَدْرِي أَمَا مَضَى مِنَ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ.
قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ فِي تَقْدِيمِهَا فِي السَّفَرِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْتَحِلَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ فِي تَقْدِيمِهَا فِي السَّفَرِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْتَحِلَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گرمی میں ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے کہ ہمیں اندازہ نہیں ہو پاتا تھا، کہ دن کا زیادہ حصہ گزر چکا ہے، یا باقی رہ گیا ہے؟ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث امام ابوداؤد نے نقل کی ہے، جس میں یہ بات ذکر کی گئی ہے: کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران روانہ ہونا ہوتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو جلدی ادا کر لیتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے موسیٰ ابوالعلاء کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1706]
یہ روایت امام أحمد نے موسیٰ ابوالعلاء کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1706]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند انس بن مالك رضي الله تعالي عنه 1170، مسند احمد بن حنبل مسند انس بن مالك رضي الله تعالي عنه 12410، مصنف عبد الرزاق الصنعاني، كتاب الصلاة، باب وقت الظهر 1987، السنن الكبرى للبيهقى، كتاب الصلاة، ذكر جماع ابواب الاذان والإقامة باب الدليل على انه لا يبلغ بتاخير ها آخر وقتها، 1919، مسند الطيالسي احاديث النساء، وما اسند انس بن مالك الانصاري الافراد عن انس، حديث 2225، مسند الحارث كتاب الصلاة، باب اوقات الصلوات 111»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف