🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

44. بَابٌ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ قَبْلَ دُخُولِ الْوَقْتِ .
جو شخص وقت شروع ہونے سے پہلے اذان دیدے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1921
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَذَّنَ بِلَالٌ قَبْلَ الْفَجْرِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرْجِعَ فَيَقُولَ: أَلَا إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ، فَرَقِيَ بِلَالٌ وَهُوَ يَقُولُ: لَيْتَ بِلَالًا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ وَابْتَلَّ مِنْ نَضْحِ دَمِ جَبِينِهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ دوبارہ اذان دیں اور یہ کہیں: خبردار بندہ سو گیا تھا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اوپر چڑھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے: بلال کی ماں اسے روئے اور اس کی پیشانی کے خون کے چھڑکنے سے وہ تر ہو جائے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم ہے، جسے امام أحمد امام ابوداؤد نے ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ یحیی بن معین نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1921]
تخریج الحدیث: «1921 مصنف عبد الرزاق الصنعاني كتاب الصلاة باب الاذان فى طلوع الفجر . 1823، سنن الدارقطني كتاب الصلاة باب ذكر الإقامة واختلاف الروايات فيها حديث 825»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں