مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
125. بَابٌ فِيمَنْ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ .
جو شخص لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں
حدیث نمبر: 2344
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ صَلَّى بِقَوْمٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنِّي نَسِيتُ أَنْ أَسْتَأْمِرَكُمْ قَبْلَ أَنْ أَتَقَدَّمَ، أَرْضَيْتُمْ بِصَلَاتِي؟ قَالُوا: نَعَمْ، وَمَنْ يَكْرَهُ ذَلِكَ يَا حَوَارِيَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ لَمْ تَجُزْ صَلَاتُهُ أُذُنَيْهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ الطِّلْحِيِّ قَالَ فِيهِ أَبُو زُرْعَةَ: عَامَّةُ أَحَادِيثِهِ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا، وَقَالَ صَاحِبُ الْمِيزَانِ: صَاحِبُ مَنَاكِيرٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَيُّوبَ الطِّلْحِيِّ قَالَ فِيهِ أَبُو زُرْعَةَ: عَامَّةُ أَحَادِيثِهِ لَا يُتَابَعُ عَلَيْهَا، وَقَالَ صَاحِبُ الْمِيزَانِ: صَاحِبُ مَنَاكِيرٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ انہوں نے لوگوں کی امامت کی جب انہوں نے نماز مکمل کی تو وہ بولے: میں یہ بھول گیا تھا کہ آگے بڑھنے سے پہلے تم لوگوں سے اجازت لیتا کیا تم لوگ میری نماز (یعنی میری امامت) سے راضی ہو؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! اے اللہ کے رسول کے حواری! اس بات کو کون ناپسند کرے گا، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص لوگوں کی امامت کرتا ہے، اور وہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں تو اس شخص کی نماز اس کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سلیمان بن ایوب طلحی کے حوالے سے نقل کی ہے، جس کے بارے میں ابوزرعہ نے یہ کہا: ہے، اس کی نقل کردہ زیادہ تر احادیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ”میزان“ کے مصنف کہتے ہیں: یہ منکر روایات نقل کرنے والا شخص ہے، اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2344]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سلیمان بن ایوب طلحی کے حوالے سے نقل کی ہے، جس کے بارے میں ابوزرعہ نے یہ کہا: ہے، اس کی نقل کردہ زیادہ تر احادیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ”میزان“ کے مصنف کہتے ہیں: یہ منکر روایات نقل کرنے والا شخص ہے، اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2344]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف