مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
130. بَابُ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ .
جو شخص لوگوں کی امامت کرے اسے مختصر نماز پڑھانی چاہیے
حدیث نمبر: 2361
عَنْ نَافِعِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْكِنْدِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً بِالنَّاسِ وَأَطْوَلَ النَّاسِ صَلَاةً لِنَفْسِهِ وَفِي رِوَايَةٍ: عُدْنَا أَبَا وَاقِدٍ الْبَدْرِيَّ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَالَ: اللَّيْثِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ: الْبَكْرِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَقَالَ: اللَّيْثِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ: الْبَكْرِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
نافع بن سرجس بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا ابوواقد کندی رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران جس میں ان کا انتقال ہوا ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے سب سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتے تھے، اور تنہا نماز ادا کرتے ہوئے سب سے زیادہ طویل نماز ادا کرتے تھے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ہم لوگ سیدنا ابوواقد بدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے انہوں نے لفظ ”لیثی“ نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور انہوں نے لفظ ”بکری“ نقل کیا ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2361]
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ہم لوگ سیدنا ابوواقد بدری رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے انہوں نے لفظ ”لیثی“ نقل کیا ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور انہوں نے لفظ ”بکری“ نقل کیا ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2361]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن، اس کے تمام راوی ثقہ اور معتبر
حدیث نمبر: 2362
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ أُصَلِّ خَلَفَ إِمَامٍ كَانَ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْهُ فِي تَمَامِ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا مالک بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں حصہ لیا میں نے ایسے کسی امام کے پیچھے نماز ادا نہیں کی جو رکوع اور سجود مکمل کرنے کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مختصر نماز ادا کرتا ہو۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2362]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2362]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2363
وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَشَدَّ النَّاسِ تَخْفِيفًا لِلصَّلَاةِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مختصر نماز پڑھاتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2363]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2363]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند جابر بن عبدالله رضى الله عنه حديث 14359»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2364
وَلَهُ عِنْدُهُ فِي رِوَايَةٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ.
وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
ان کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ مختصر، لیکن مکمل نماز پڑھاتے تھے۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2364]
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2364]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 2365
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَجْدَةٌ مِنْ سُجُودِ هَؤُلَاءِ أَطْوَلُ مِنْ ثَلَاثِ سَجَدَاتٍ مِنْ سُجُودِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ان (یعنی موجودہ زمانے کے اماموں) کے سجدوں میں سے ایک سجدہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدوں میں سے تین سجدوں سے زیادہ طویل ہوتا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2365]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2365]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2366
وَعَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِكُمْ؟ قَالَ: وَمَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ صَلَاتِي؟ قُلْتُ: أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: نَعَمْ، وَأَوْجَزُ، قَالَ: وَكَانَ قِيَامُهُ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْمَنَارَةِ وَيَصِلُ إِلَى الصَّفِّ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ.
ابوخالد والبی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح آپ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں میری نماز کا کون سا حصہ منکر لگا ہے؟ میں نے کہا: میں نے آپ سے اس بارے میں صرف سوال کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو انہوں نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ مختصر نماز پڑھایا کرتے تھے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اتنا ہوتا تھا کہ جتنی دیر میں مؤذن منارے سے نیچے اتر کر صف میں شامل ہو جائے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2366]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2366]
الحكم على الحديث: حسن لغیرہ
حدیث نمبر: 2367
وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ صَلَّى صَلَاةً تَجَوَّزَ فِيهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى أَبُو يَعْلَى الْأَوَّلَ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى أَبُو يَعْلَى الْأَوَّلَ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.
ان کے حوالے سے ایک روایت میں یہ منقول ہے: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھاتے ہوئے مختصر نماز ادا کی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے پہلی والی روایت نقل کی ہے: ان دونوں کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2367]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے پہلی والی روایت نقل کی ہے: ان دونوں کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2367]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2368
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَقَدْ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً لَوْ صَلَّاهَا أَحَدُكُمُ الْيَوْمَ لَعِبْتُمُوهَا عَلَيْهِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایسی نماز ادا کرتے تھے کہ اگر آج تم میں سے کوئی اس طرح نماز پڑھائے تو تم لوگ اس پر اعتراض کرو۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2368]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2368]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 2369
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: مَنْ أَمَّنَا فَلْيُتْمِمِ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ؛ فَإِنَّ فِينَا الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ الْمَرِيضَ وَالْعَابِرَ سَبِيلٍ وَذَا الْحَاجَةِ، هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جو شخص ہماری امامت کرے اسے رکوع اور سجود مکمل کرنے چاہیں کیونکہ ہمارے درمیان ضعیف عمر رسیدہ بیمار مسافر اور کام کاج والے لوگ بھی ہوتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اسی طرح نماز ادا کیا کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2369]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2369]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2370
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَؤُمُّ قَوْمَهُ فَدَخَلَ حَرَامٌ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَ نَخْلَةً، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ لِيُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى مُعَاذًا طَوَّلَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ، فَلَمَّا قَضَى مُعَاذٌ الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ: إِنَّ حَرَامًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا رَآكَ طَوَّلْتَ تَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ وَلَحِقَ بِنَخْلِهِ يَسْقِيهِ فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، أَفَعَجِلَ عَنْ صَلَاتِهِ مِنْ أَجْلِ سَقْيِ نَخْلَةٍ! قَالَ: فَجَاءَ حَرَامٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَاذٌ عِنْدَهُ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَسْقِيَ نَخْلًا لِي فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ لِأُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَلَمَّا طَوَّلَ تَجَوَّزْتُ وَلَحِقْتُ بِنَخْلِي أَسْقِيهِ فَزَعَمَ أَنِّي مُنَافِقٌ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مُعَاذٍ فَقَالَ:
" أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَنْتَ لَا تُطَوِّلْ بِهِمُ، اقْرَأْ بِسَبِّحِّ اسْمَ رَبِّكَ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
" أَفَتَّانٌ أَنْتَ، أَنْتَ لَا تُطَوِّلْ بِهِمُ، اقْرَأْ بِسَبِّحِّ اسْمَ رَبِّكَ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَنَحْوِهِمَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے افراد کی امامت کر رہے تھے اسی دوران حرام نامی ایک صاحب مسجد میں داخل ہوئے ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنی کھجوروں کو پانی دیں گے وہ مسجد میں داخل ہوئے تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لیں جب انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ نماز کو طول دے رہے ہیں تو انہوں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنی کھجوروں کو پانی دینے چلے گئے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کی تو انہیں یہ بتایا گیا کہ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ مسجد میں آئے تھے جب انہوں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے نماز کو طول دیا ہے، تو انہوں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنے کھجوروں کے باغ میں پانی دینے چلے گئے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ منافق ہے کیا اس نے کھجوروں کو پانی دینے کی خاطر نماز میں جلدی کی تھی؟ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اپنے کھجوروں کے باغ کو پانی دوں گا میں مسجد میں داخل ہوا تاکہ لوگوں کے ساتھ نماز ادا کر لوں جب انہوں نے نماز کو طول دیا تو میں نے مختصر نماز ادا کی اور اپنے کھجوروں کے باغ میں چلا گیا تاکہ وہاں پانی دوں ان کا یہ کہنا ہے کہ میں منافق ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم آزمائش کا شکار کرتے ہو؟ تم ان کو نماز پڑھاتے ہوئے طویل نماز نہ پڑھاؤ تم سورہ الاعلیٰ سورہ والشمس اور اس جیسی دیگر سورتوں کی تلاوت کیا کرو!
یہ روایت امام أحمد اور امام بزرا نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2370]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزرا نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2370]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔