🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

148. بَابُ مَسْحِ الْجَبْهَةِ فِي الصَّلَاةِ .
نماز کے دوران پیشانی پر ہاتھ پھیرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2454
عَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" ثَلَاثٌ مِنَ الْجَفَاءِ: أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ، أَوْ يَمْسَحَ جَبْهَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، أَوْ يَنْفُخَ فِي سُجُودِهِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین چیزیں جفاء کا حصہ ہیں یہ کہ آدمی کھڑا ہو کر پیشاب کرے یہ کہ وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پیشانی صاف کرے اور یہ کہ وہ سجدے میں (جانے سے پہلے زمین پر) پھونک مارے“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام بزار کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2454]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2455
وَعَنْ أَنَسٍ رَفَعَهُ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ مِنَ الْجَفَاءِ: أَنْ يَنْفُخَ الرَّجُلُ فِي سُجُودِهِ، أَوْ يَمْسَحَ جَبْهَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ".
قَالَ الْبَزَّارُ: ذَهَبَتْ عَنِّي الثَّالِثَةُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ الْجَلْدُ بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ”مرفوع“ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ”تین چیزیں جفاء کا حصہ ہیں یہ کہ آدمی سجدے میں پھونک مارے یا یہ کہ آدمی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے اپنی پیشانی کو پونچھ لے“۔ امام بزار بیان کرتے ہیں: تیسری بات مجھے بھول گئی ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی جلد بن ایوب ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2455]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2456
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا يَمْسَحُ الرَّجُلُ جَبْهَتَهُ مِنَ التُّرَابِ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، وَلَا بَأْسَ أَنْ يَمْسَحَ الْعَرَقَ عَنْ صُدْغَيْهِ [ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ أَثَرُ السُّجُودِ عَلَيْهِ ] ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ هَكَذَا سَمَّاهُ الْبَزَّارُ وَالْمِزِّيُّ فِي تَرْجَمَةِ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ سَابُورَ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ: عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آدمی نماز سے فارغ ہونے سے پہلے اپنی پیشانی سے مٹی کو نہ پونچھے البتہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اپنی کنپٹی سے پسینہ پونچھ لے کیونکہ فرشتے آدمی کے لئے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک سجدے کا نشان (یعنی مٹی وغیرہ) اس پر موجود رہتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبداللہ بن حکم بن نعمان بن بشیر ہے، اور وہ متروک ہے امام بزار نے اس کا یہی نام بیان کیا ہے امام مزی نے محمد بن شعیب بن سابور کے حالات میں یہی بات بیان کی ہے امام ذہبی کہتے ہیں: یہ عیسیٰ بن عبدالرحمن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2456]
تخریج الحدیث: «المعجم الأوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد حديث 7030 المعجم الكبير للطبراني بقية الميم باب الواو ما اسند واثلة مكحول الشامي حديث 18002»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2457
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَمْسَحُ وَجْهَهُ فِي الصَّلَاةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران چہرے کو نہیں پونچھتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2457]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2458
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران اپنے چہرے سے پسینہ پونچھ لیتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن معصب ہے، اور وہ انتہائی ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2458]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں