🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

208. بَابُ الْقُنُوتِ .
قنوت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2829
وَعَنِ الْبَرَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ كَانَ لَا يُصَلِّي صَلَاةً مَكْتُوبَةً إِلَّا قَنَتَ فِيهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی فرض نماز ادا کرتے تھے اس میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2829]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2830
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّمَا أَقْنُتُ لِتَدْعُوا رَبَّكُمْ وَتَسْأَلُوهُ حَوَائِجَكُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں قنوت نازلہ اس لئے پڑھتا ہوں تاکہ تم لوگ اپنے پروردگار سے دعا مانگو اور اس سے اپنی ضروریات کا سوال کرو۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2830]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2831
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي دُعَائِهِ:" اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَمْ يَرَوِهِ عَنْ عَلْقَمَةَ إِلَّا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں یہ کہا: کرتے تھے: اے اللہ! جنہیں تو نے ہدایت نصیب کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا فرما جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا فرما جن کا تو نگران بنا ہے ان کے ساتھ میرا بھی نگران بن جا تو نے جو کچھ عطا کیا ہے، اس کے بارے میں میرے لئے برکت رکھ دے اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس کے شر سے مجھے بچا لے کیونکہ تو فیصلہ دیتا ہے، اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جاتا اور جس کا تو نگہبان بن جائے وہ ذلیل نہیں ہوتا اے ہمارے پروردگار تو برکت والا ہے، اور بلند و برتر ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں: علقمہ کے حوالے سے اس روایت کو صرف ابوحفص عمر نامی راوی نے نقل کیا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2831]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2832
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنے سے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2832]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2833
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُوتِرُ بِثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَيَجْعَلُ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِثِقَةٍ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ وَفِيهِ الْقُنُوتُ فِي مَنَاقِبِ خَدِيجَةَ أَوْ عَلِيٍّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْأَدْعِيَةِ فِي دُعَاءِ الْمَرْءِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعات وتر ادا کرتے تھے، اور دعاء قنوت وتر سے پہلے پڑھتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عباس ترمذی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ”ثقہ“ نہیں ہے علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی، جس میں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ جس میں قنوت کا ذکر کیا گیا ہے وہ حدیث سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا یا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی اگر اللہ نے چاہا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث دعاؤں سے متعلق باب میں آئے گی جو اس باب میں آئے گی کہ آدمی کو اپنے بھائی کے لئے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرنی چاہیے اگر اللہ نے چاہا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2833]

الحكم على الحديث: إسناده یہ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2834
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو فِي قُنُوتِهِ عَلَى الْكَفَرَةِ قَالَ: وَسَمِعَتُهُ يَقُولُ:"وَاجْعَلْ قُلُوبَهُمْ كَقُلُوبِ نِسَاءٍ كَوَافِرَ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَفِيهِ حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ السَّدُوسَيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی تھی راوی کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قنوت نازلہ میں کافروں کے خلاف دعا کرتے ہوئے سنا میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! ان کے دلوں کو کافر عورتوں کے دلوں کی طرح کر دے“۔
یہ روایت ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ بن عبیداللہ سدوسی ہے، جسے امام أحمد ابن مدینی اور ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2834]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2835
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے تک مسلسل فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے رہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2835]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2836
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَنَتَ حَتَّى مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ وَعُمَرُ حَتَّى مَاتَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قنوت نازلہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا سیدنا ابوبکر بھی مرتے دم تک پڑھتے رہے سیدنا عمر بھی مرتے دم تک پڑھتے رہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2836]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2837
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا لَعَنَ الْمُشْرِكِينَ فِي الصَّلَاةِ يَبْدَأُ بِقُرَيْشٍ ثُمَّ يُتْبِعُهُمْ قَبَائِلَ كَثِيرَةً مِنَ الْعَرَبِ فَقِيلَ لَهُ: الْعَنْ كُفَّارَ قُرَيْشٍ فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَلْعَنَ قَبِيلَةً:" اللَّهُمَّ الْعَنْ كُفَّارَ بَنِي فُلَانٍ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران جب مشرکین پر لعنت کرتے تھے تو سب سے پہلے قریش کا ذکر کرتے تھے پھر اس کے بعد عربوں کے بہت سے قبائل کا ذکر کرتے تھے آپ سے کہا: گیا آپ کفار قریش پر لعنت کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا کہ جب آپ کسی قبیلے پر لعنت کرنے کا ارادہ کرتے تھے تو یہ کہتے تھے اے اللہ! بنوفلاں کے کفار پر لعنت کر دے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2837]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں