مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
211. بَابُ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ .
نماز ختم کرنا
حدیث نمبر: 2883
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: أَقَمْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِصْفَ شَهْرٍ فَرَأَيْتُهُ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَرَأَيْتُهُ يَنْفَتِلُ عَنْ يَسَارِهِ وَرَأَيْتُ نَعْلَيْهِ لَهُمَا قِبَالَانِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَمَعَ ذَلِكَ فِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَمَعَ ذَلِكَ فِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نصف مہینہ بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں مقیم رہے میں نے آپ کو (نماز ادا کرنے کے بعد) دائیں طرف سے بھی اٹھتے ہوئے دیکھا ہے، اور بائیں طرف سے بھی اٹھتے ہوئے دیکھا ہے، اور میں نے دیکھا کہ آپ کے جوتوں کے دو تسمے ہوتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، اور اس کے ہمراہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2883]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، اور اس کے ہمراہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2883]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 2884
وَعَنْ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْصَرِفُ عَنْ شِمَالِهِ إِلَى مَنْزِلِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ نُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ.
سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) بائیں طرف سے اٹھ کر اپنے گھر جاتے ہوئے دیکھا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عدی ہے، اور وہ ضعیف ہے، اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2884]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن عدی ہے، اور وہ ضعیف ہے، اس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2884]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 2885
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَلَّمَ عَلَيْنَا مِنَ الصَّلَاةِ قُلْنَا: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِذَاكَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِذَاكَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب ہماری طرف سلام پھیرتے تھے تو ہم یہ کہتے تھے: وَ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ و َرَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مختار ہے، جسے امام ابوداؤد اور ابوحاتم نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے یحیی بن معین کہتے ہیں: یہ اتنے پائے کا نہیں ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2885]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مختار ہے، جسے امام ابوداؤد اور ابوحاتم نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے یحیی بن معین کہتے ہیں: یہ اتنے پائے کا نہیں ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2885]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 2886
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ سَاعَةَ يُسَلِّمُ يَقُومُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ إِذَا سَلَّمَ وَثَبَ كَأَنَّهُ يَقُومُ عَنْ رَضْفَةٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْجُوزَجَانِيُّ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: هُوَ أَرْضَى أَهْلِ الْأَرْضِ عِنْدِي وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: رُبَّمَا خَالَفَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ الْجُوزَجَانِيُّ: أَحَادِيثُهُ مَنَاكِيرُ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: هُوَ أَرْضَى أَهْلِ الْأَرْضِ عِنْدِي وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: رُبَّمَا خَالَفَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ نے جیسے ہی سلام پھیرا تو آپ اٹھ گئے پھر میں نے سیدنا ابوبکر کی اقتداء میں نماز ادا کی انہوں نے جب سلام پھیرا تو وہ فورا اٹھ گئے یوں جیسے وہ کسی انگارے پر بیٹھے ہوئے ہوں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ ہے ابراہیم جو زجانی بیان کرتے ہیں: اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں ابن ابومریم کہتے ہیں: وہ میرے نزدیک روئے زمین کا سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی ہے۔ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں: یہ (بعض اوقات دوسرے راویوں کے) برخلاف روایت نقل کر دیتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2886]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن فروخ ہے ابراہیم جو زجانی بیان کرتے ہیں: اس کی نقل کردہ احادیث منکر ہوتی ہیں ابن ابومریم کہتے ہیں: وہ میرے نزدیک روئے زمین کا سب سے زیادہ پسندیدہ آدمی ہے۔ ابن حبان نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں: یہ (بعض اوقات دوسرے راویوں کے) برخلاف روایت نقل کر دیتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2886]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2887
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ وَلِلرَّجُلِ حَاجَةٌ فَلَا يَنْتَظِرُهُ إِذَا سَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِهِ وَإِنَّ فَصْلَ الصَّلَاةِ التَّسْلِيمُ.
وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ يَقُومَ أَوْ يَتَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَهُمْ بِوَجْهِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ يَقُومَ أَوْ يَتَحَوَّلَ مِنْ مَكَانِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَهُمْ بِوَجْهِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب امام سلام پھیر دے اور آدمی کوئی کام ہو، تو وہ امام کا یہ انتظار نہ کرے کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف رُخ کرے کیونکہ سلام پھیر کر نماز ختم ہو جاتی ہے۔ سیدنا عبداللہ کا یہ معمول تھا جب وہ سلام پھیرتے تھے تو فورا اٹھ جاتے تھے یا اپنی جگہ تبدیل کر دیتے تھے یا لوگوں کی طرف رخ کر لیتے تھے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2887]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2887]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 2888
وَعَنْ غَالِبِ بْنِ فَرْقَدٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَغَالِبٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ مَرْفُوعٌ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَغَالِبٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
غالب بن فرقد بیان کرتے ہیں: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرتے ہوئے السَّلَام عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ کہا: کرتے تھے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ”صحیح“ میں ان کے حوالے سے ایک ”مرفوع“ حدیث مذکور ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے غالب نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2888]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے غالب نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2888]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني باب من اسمه الاشعث صفة انس بن مالك وهيانه رضى الله عنه 693»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف