🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

242. بَابُ التَّبْكِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ .
جمعہ کے لئے جلدی جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3079
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ مَعَهُمُ الصُّحُفُ يَكْتُبُونَ النَّاسَ فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ"، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ لَيْسَ لِمَنْ جَاءَ بَعْدَ خُرُوجِ الْإِمَامِ جُمُعَةٌ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنْ لَيْسَ مِمَّنْ يُكْتَبُ فِي الصُّحُفِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جمعہ کے دن فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں ان کے پاس صحیفے ہوتے ہیں وہ لوگوں کے نام نوٹ کرتے ہیں جب امام آ جاتا ہے، تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں“۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے سیدنا ابوامامہ! جو شخص امام کے آنے کے بعد آتا ہے کیا اس کا جعہ نہیں ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہوتا ہے، لیکن یہ ان افراد میں شامل نہیں ہوتا جن کے نام صحیفے میں نوٹ کیے جاتے ہیں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے، جسے ایک جماعت نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3079]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3080
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ فَيَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ حَتَّى إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ رَفَعَتِ الصُّحُفَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (جمعہ کے دن) فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور درجہ بدرجہ پہلے آنے والے لوگوں کے نام نوٹ کرتے ہیں یہاں تک کہ امام آ جاتا ہے، تو وہ صحیفے اٹھا لیتے ہیں“۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3080]
تخریج الحدیث: «مسند احمد بن حنبل مسند الانصار، حديث ابي امامة البابلي الصدى بن عجلان بن عمرو ويقال 21681»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح، اس کے راوی ثقہ ہیں۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3081
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَرَجَ الشَّيَاطِينُ يُوَثِّبُونَ النَّاسَ إِلَى أَسْوَاقِهِمْ [ وَمَعَهُمُ الرَّايَاتُ ] وَتَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ: السَّابِقُ وَالْمُصَلِّي الَّذِي يَلِيهِ حَتَّى يَخْرُجَ الْإِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَأَى [ عَنْهُ ] فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَلَغَا وَلَمْ يُنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ، [ وَمَنْ نَأَى عَنْهُ فَلَغَا وَلَمْ يَنْصِتْ وَلَمْ يَسْتَمِعْ كَانَ عَلَيْهِ كِفْلٌ مِنَ الْوِزْرِ ] ، وَمَنْ قَالَ: صَهٍ فَقَدْ تَكَلَّمَ وَمَنْ تَكَلَّمَ فَلَا جُمُعَةَ لَهُ".
ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ يَسِيرًا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب جمعہ کا دن آتا ہے، تو شیاطین نکلتے ہیں، اور لوگوں کو بازار کی طرف لے کر جاتے ہیں ان شیاطین کے پاس جھنڈے ہوتے ہیں، جبکہ فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، اور وہ لوگوں کی منزلت (یعنی آمد کی ترتیب) کے اعتبار سے ان کے نام نوٹ کرتے ہیں کہ پہلے کون آیا اس کے بعد کون آیا یہاں تک کہ جب امام آ جاتا ہے، تو جو شخص امام کے قریب ہو اور خاموش رہے، اور غور سے خطبہ سنے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اسے اجر کے دو کفل ملتے ہیں، اور جو شخص امام سے دور ہو اور غور سے خطبہ سنے اور کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اسے اجر کا ایک کفل ملتا ہے، جو شخص امام کے قریب ہو اور لغو حرکت کرے اور خاموش نہ رہے، اور غور سے خطبہ نہ سنے تو اسے گناہ کے دو کفل ملتے ہیں، اور جو شخص امام سے دور ہو اور لغو حرکت کرے اور خاموش بھی نہ رہے اور غور سے خطبہ بھی نہ سنے تو اسے گناہ کا ایک کفل ملتا ہے، اور جو شخص (کسی دوسرے شخص کو یہ کہے: تم خاموش رہو، تو اس نے کلام کیا اور جس شخص نے کلام کیا ہو اس کا جمعہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے تمہارے نبی کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3081]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3082
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ فَيَكْتُبُونَ مَنْ جَاءَ مِنَ النَّاسِ عَلَى مَنَازِلِهِمْ ؛ فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُورًا، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاةً وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَةً وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَيْضَةً" قَالَ:"فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَجَلَسَ الْإِمَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ طُوِيَتِ الصُّحُفُ وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے، تو فرشتے مساجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، اور لوگوں کے نام ان کی آمد کی ترتیب کے حساب سے نوٹ کرتے ہیں تو کوئی شخص یوں ہوتا ہے جیسے اس نے اونٹ صدقہ کیا ہو، کوئی شخص یوں ہوتا ہے، جیسے اس نے گائے صدقہ کی ہو کوئی شخص یوں ہوتا ہے جیسے اس نے بکری صدقہ کی ہو کوئی شخص یوں ہوتا ہے جیسے اس نے مرغی صدقہ کی ہو کوئی شخص یوں ہوتا ہے جیسے اس نے انڈا صدقہ کیا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب مؤذن اذان دیتا ہے، اور امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے، تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں، اور فرشتے مسجد میں داخل ہو کر ذکر (یعنی خطبہ) غور سے سنتے ہیں“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3082]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3083
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" احْضُرُوا الْجُمُعَةَ وَادْنُوا مِنَ الْإِمَامِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَتَأَخَّرُ عَنِ الْجُمُعَةِ فَيُؤَخَّرُ عَنِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ لِمَنْ أَهْلِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جمعہ میں شریک ہو امام کے قریب رہو کیونکہ ایک شخص جو اہل جنت سے تعلق رکھتا ہے وہ اگر جمعہ سے پیچھے رہ جائے تو وہ جنت سے پیچھے رہ جاتا ہے حالانکہ وہ اس کے اہل میں سے ہوتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے، اور وہ ”ضعیف“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3083]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3084
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ فَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور سر دھوئے اور جلدی جائے اور قریب رہے، اور غور سے سنے اور خاموش رہے، تو اسے اجر کے دو کفل ملتے ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3084]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3085
وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الْمُتَعَجِّلُ فِي الْجُمُعَةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي الثَّوْرَ، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي شَاةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي دَجَاجَةً".
انہوں نے اس سند کے ساتھ سیدنا ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے:“”“”جمعہ کے لئے جلدی جانے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی مانند ہے، اس کے بعد والا بیل کی قربانی (یعنی صدقہ) کرنے وانے کی مانند ہے، اس کے بعد والا بکری کی قربانی کروانے کی مانند ہے، اس کے بعد والا مرغی کی قربانی کرنے والے کی مانند ہے“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3085]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف، لكن الحديث صحيح لوجود شاهدٍ له فی الصحیحین
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3086
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَبْعَثُ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ الْقَوْمَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ وَالْخَامِسَ وَالسَّادِسَ، فَإِذَا بَلَغُوا السَّابِعَةَ كَانُوا بِمَنْزِلَةٍ مِنْ قُرْبِ الْعَصَافِيرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ بَشِيرِ بْنِ [ عَوْنٍ ] الْقُرَشِيِّ قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: رَوَى نَحْوَ مِائَةِ حَدِيثٍ، كُلُّهَا مَوْضُوعَةٌ.
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ جمعہ کے دن فرشتوں کو مساجد کے دروازوں پر بھیجتا ہے، جو لوگوں میں پہلے دوسرے نمبر پر تیسرے نمبر پر چوتھے نمبر پر پانچویں نمبر پر اور چھٹے نمبر پر آنے والے لوگوں کے نام نوٹ کرتے ہیں جب وہ ساتویں نمبر پر پہنچتے ہیں تو وہ چڑیوں کے ایک ساتھ چلنے کی مانند ہو جاتے ہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بشیر بن عون قرشی کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں: اس نے تقریبا ایک سو احادیث روایت کی ہیں، اور وہ ایجاد کی ہوئی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3086]

الحكم على الحديث: إسنادہ موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3087
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَدَا وَابْتَكَرَ ثُمَّ جَلَسَ قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا عَمَلُ سَنَةٍ ؛ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرنے اور سر دھوئے اور جلدی جائے اور امام کے قریب بیٹھے اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے، تو اسے اپنے اٹھائے ہوئے ہر ایک قدم کے عوض میں ایک سال کے عمل کا یعنی سال بھر کے روزوں اور قیام کا ثواب ملتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3087]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3088
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَغَدَا وَابْتَكَرَ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ وَلَمْ يَلْغُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا إِلَى الْمَسْجِدِ صِيَامَ سَنَةٍ وَقِيَامَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَنَاحٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص (جمعہ کے دن) غسل کرے اور سر کو دھوئے اور جائے اور جلدی جائے اور امام کے قریب رہے، اور خاموش رہے، اور جمعہ کے دن کوئی لغو حرکت نہ کرے تو اس کے مسجد کی طرف اٹھائے جانے والے ہر ایک قدم کے عوض میں اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک سال کے روزوں اور قیام کا ثواب نوٹ کرتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد بن جناح ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”ثقہ“ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3088]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں