🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

31. بَابٌ فِيمَا يُسْتَعَاذُ مِنْهُ مِنَ الْمَوْتَاتِ .
موت کی مختلف صورتوں میں سے کن سے پناہ مانگی گئی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3884
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ:" مَوْتِ الْفُجَاءَةِ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنَ السَّبُعِ، وَمِنَ الْغَرَقِ، وَمِنَ الْحَرْقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَمِنَ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موت کی سات قسم کی صورتوں سے پناہ مانگتے تھے اچانک موت سانپ کے ڈسنے درندے کی وجہ سے ڈوبنے کی وجہ سے جل جانے کی وجہ سے آدمی کے کسی چیز پر گرنے یا آدمی پر کسی چیز کے گرنے کی وجہ سے اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے قتل ہو جانے (کی شکل میں آنے والی موت) سے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) پناہ مانگتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3884]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3885
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ هَمًّا أَوْ غَمًّا، أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا وَأَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَمُوتَ لَدِيغًا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (یعنی آپ نے یہ دعا کی:) ”اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں پریشانی یا غم کی وجہ سے انتقال کر جاؤں یا میں ڈوب کر مر جاؤں یا موت کے وقت شیطان مجھے مخبوط الحواس کر دے یا میں کسی کے ڈسنے کی وجہ سے مر جاؤں“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3885]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3886
وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِجِدَارٍ مَائِلٍ فَأَسْرَعَ الْمَشْيَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ:" إِنِّي أَكْرَهُ مَوْتَ الْفَوَاتِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
انہوں نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک دیوار کے پاس سے ہوا جو گرنے والی تھی تو آپ تیزی سے چلتے ہوئے تشریف لے گئے آپ کی خدمت میں اس حوالے سے گزارش کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں اچانک موت کو ناپسند کرتا ہوں۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3886]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں