مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. بَابُ مَوْتِ الْبَنَاتِ .
بیٹیوں کی موت
حدیث نمبر: 4006
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: لَمَّا عُزِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِابْنَتِهِ رُقَيَّةَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، دَفْنُ الْبَنَاتِ مِنَ الْمَكْرُمَاتِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مَوْتُ الْبَنَاتِ"، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مَوْتُ الْبَنَاتِ"، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہ کے انتقال پر تعزیت کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا ہر طرح کی حمد اللہ تعالی کے لئے مخصوص ہے بیٹی کو دفن کرنا عزت افزائی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”بیٹیوں کی موت“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4006]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”بیٹیوں کی موت“۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4006]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف