🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

27. بَابٌ فِي الْوِصَالِ .
صوم وصال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4901
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سحری تک صوم وصال رکھا کرتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4901]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (158) اخرجه احمد فى المسند (1194,700)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4902
وَعَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرٍ قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أَصُومَ يَوْمَيْنِ مُوَاصَلَةً فَمَنَعَنِي بَشِيرٌ وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ وَقَالَ:" يَفْعَلُ ذَلِكَ النَّصَارَى، وَلَكِنْ صُومُوا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ، وَأَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ، فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ فَأَفْطِرُوا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَيْلَى لَمْ أَجِدْ مَنْ جَرَّحَهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ لیلی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے دو دنوں کو ملا کر صوم وصال رکھنے کا ارادہ کیا تو سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے منع کر دیا اور یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔ آپ نے یہ فرمایا ہے: عیسائی ایسا کرتے تھے، تم لوگ اس طرح روزہ رکھو، جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے، اور وہ یہ کہ تم روزے کو رات تک مکمل کرو اور جب رات ہو جائے، تو تم افطاری کر لو۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ لیلی نامی خاتون پر جرح کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے اس کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4902]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6953) اخرجه احمد فى المسند (225/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4903
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُوَاصِلَ وَلَيْسَتْ بِالْعَزِيمَةِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صوم وصال رکھنے سے منع کیا ہے، اور یہ عزیمت نہیں ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4903]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6953) اخرجه البزار فى المسند (1024)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4904
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُومُوا مِنْ وَضَحٍ إِلَى وَضَحٍ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
ابوملیح نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وضح (یعنی روشنی، یعنی سحری) سے لے کر، وضح (یعنی سحری) تک روزہ رکھو“۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سالم بن عبیداللہ بن سالم ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4904]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (504) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (3046) اخرجه البزار فى المسند (1025)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4905
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوَاصِلُ مِنَ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سحری سے لے کر اگلی سحری تک صوم وصال رکھتے تھے (یعنی افطاری میں کچھ نہیں کھاتے پیتے تھے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4905]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4906
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وِصَالِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ:" إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ سِنَانٍ النَّهْرُتِيرِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے صوم وصال رکھنے سے منع کیا ہے لوگوں نے عرض کی: آپ بھی تو صوم وصال رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ایسی حالت میں وقت گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے، اور وہ مجھے پلا دیتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سہل بن سنان نہر تیری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4906]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13300)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4907
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ بَيْنَ يَوْمَيْنِ وَلَيْلَةٍ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ وِصَالَكَ، وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدَكَ ; وَذَلِكَ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: (ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ) فَلَا صِيَامَ بَعْدَ اللَّيْلِ، وَأَمَرَنِي بِالْوِتْرِ بَعْدَ الْفَجْرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَلَمْ أَعْرِفْ عَبْدَ الْمَلِكِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں اور ایک رات کو ملا کر صوم وصال رکھا سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور بولے: بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کے صوم وصال کو قبول کر لیا ہے، اور یہ آپ کے بعد کسی کے لئے حلال نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ”پھر تم لوگ روزے کو رات تک مکمل کر لو“۔ تو رات ہو جانے کے بعد روزہ نہیں رہے گا، اور جبرائیل نے مجھے فجر (صبح صادق) ہو جانے کے بعد وتر ادا کرنے کا حکم دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں عبدالملک کے حوالے سے سیدنا ابوغفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ میں عبدالملک سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4907]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں