🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

38. بَابُ جَوَازِ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ .
روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کا جائز ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4995
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4995]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (93/20) اخرجه البزار فى المسند (1014)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4996
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ بِنَا أَبُو طَيْبَةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: بَعْدَ الْعَصْرِ فِي رَمَضَانَ - فَقَالَ: حَجَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوطیبہ ہمارے پاس سے گزرے راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: رمضان کے مہینے میں عصر کے بعد ہمارے پاس سے گزرے تو انہوں نے بتایا: میں نے اللہ کے رسول کو پچھنے لگائے ہیں۔
یہ روایت امام بزار نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4996]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1011)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4997
قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَجَّامٍ يُكَنَّى أَبَا طَيْبَةَ فَحَجَّمَهُ بَعْدَ الْعَصْرِ فِي رَمَضَانَ.
وَفِي إِسْنَادِهِمَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
ان کے حوالے سے امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کو پیغام بھیجا جس کی کنیت ابوطیبہ تھی اس نے رمضان کے مہینے میں عصر کی نماز کے بعد آپ کو پچھنے لگائے۔ ان دونوں کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4997]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4998
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: رُخِّصَ فِي الْقُبْلَةِ وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ. وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے دار کو پچھنے لگوانے کی رخصت دی ہے۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”روزہ دار کو بوسہ لینے اور پچھنے لگوانے کی رخصت دی گئی ہے“۔ امام بزار کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4998]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4999
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِي رَمَضَانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں پچھنے لگوائے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 4999]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5000
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَرَّ بِنَا أَبُو طَيْبَةَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ. فَقُلْنَا: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: حَجَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ ; وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوطیبہ رضی اللہ عنہ رمضان کے مہینے میں ہمارے پاس سے گزرے ہم نے کہا: آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنے لگوائے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5000]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (383/22) اخرجه ابو يعلي فى المسند (4225)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5001
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ، وَهُوَ صَائِمٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا عبدالله بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5001]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5002
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ صَائِمٌ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَلْمُ بْنُ سَالِمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کا اجر عطا کیا اگر یہ حرام ہوتا تو آپ اسے عطا نہ کرتے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سلم بن سالم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5002]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13399)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5003
وَعَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بَعْدَمَا قَالَ:" أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَرِيفٌ أَبُو سُفْيَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بات ارشاد فرمانے: ”پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا“ کے بعد خود پچھنے لگوائے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی طریف ابوسفیان ہے، اور وہ ضعیف ہے اسے ابن عدی نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5003]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5004
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُفَطِّرْنَ الصَّائِمَ: الْقَيْءُ وَالْحِجَامَةُ وَالِاحْتِلَامُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَصَحَّحَ أَحَدَهُمَا، وَظَاهِرُهُ الصِّحَّةُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین چیزیں روزہ دار کا روزہ ختم نہیں کرتی ہیں قے کرنا، پچھنے لگوانا اور احتلام ہو جانا“۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ انہوں نے ان دونوں میں سے ایک کو صحیح قرار دیا ہے، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ صحیح ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5004]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1016 و 1017)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں