🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

59. بَابٌ فِي صِيَامِ الدَّهْرِ .
ہمیشہ روزے رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5162
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَلَانَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى وَالنَّاسُ نِيَامٌ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ تُذْكَرُ فِي مَوَاضِعِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ ان کے لئے تیار کیے ہیں جو کھانا کھلاتا ہے نرمی سے گفتگو کرتا ہے مسلسل روزے رکھتا ہے، اور اس وقت نفل نماز ادا کرتا ہے، جب لوگ سو رہے ہوں“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس حدیث کے مختلف طرق ہیں جن کا ذکر ان کے مخصوص مقام پر ہو گا اگر اللہ نے چاہا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5162]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (343/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5163
وَعَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا". وَقَبَضَ كَفَّهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَعَقَدَ تِسْعِينَ. وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص ہمیشہ روزے رکھتا ہے اس پر جہنم یوں تنگ ہو جائے گی“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوے کا عدد بنا کر یہ بات ارشاد فرمائی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5163]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (414/4) اخرجه البزار فى المسند (1040 و1041)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5164
وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرٍو أَنَّ عَمْرًا كَانَ يَسْرُدُ الصَّوْمَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ابوقیس جو عمرو کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ مسلسل نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5164]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5165
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَيَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْلَاةٌ لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ: إِنَّهَا قَامَتِ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِنِّي أَنَا أَنَامُ وَأُصَلِّي وَأُفْطِرُ، فَمَنِ اقْتَدَى بِي فَهُوَ مِنِّي، وَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ ثُمَّ فَتْرَةٌ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى بِدْعَةٍ فَقَدْ ضَلَّ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ بِنَحْوِ هَذَا.
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں اور یحییٰ بن جعدہ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بنو عبدالمطلب کی ایک کنیز کا ذکر کیا گیا تو کہنے والے نے یہ کہا: وہ رات بھر نفل پڑھتی رہتی ہے، اور دن میں روزہ رکھتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، لیکن میں تو (رات کے وقت) سو بھی جاتا ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور (نفلی) روزہ ترک بھی کر دیتا ہوں تو جو شخص میری اقتداء کرے گا وہ مجھ سے ہو گا، اور جو میری سنت سے منہ موڑے گا اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ہر عمل کے لئے ایک چستی ہے پھر اس میں سستی آ جاتی ہے، جس شخص کی سستی بدعت کی طرف ہو گی وہ گمراہ ہو جائے گا، اور جس شخص کی سستی میری سنت کی طرف ہو گی وہ ہدایت پا لے گا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ اس سے پہلے اس کی مانند کچھ احادیث گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5165]
تخریج الحدیث: «. اخرجه احمد فى المسند (409/5)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5166
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ، فَدَارَ عَلَى الْقَوْمِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ صَائِمٌ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَالَ لَهُ: اشْرَبْ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ يُفْطِرُ ; أَوْ يَصُومُ الدَّهْرَ. قَالَ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ". وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشروب لایا گیا وہ مشروب تمام حاضرین کے پاس لے جایا گیا ان میں ایک روزہ دار شخص موجود تھا جب اس کے پاس مشروب پہنچا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم پی لو! عرض کی گئی: یا رسول اللہ! یہ شخص کوئی نفلی روزہ نہیں چھوڑتا ہے یہ مسلسل نفلی روزے رکھتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص نے درحقیقت روزہ نہیں رکھا جو ہمیشہ روزے رکھتا ہو۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”شخص ہمیشہ روزے رکھے اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ ترک کیا“۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5166]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (179/24) اخرجه احمد فى المسند (455/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5167
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس شخص نے روزہ نہیں رکھا جو ہمیشہ (نفلی) روزے رکھتا ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5167]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5168
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُفْيَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا عبدالله بن سفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس شخص نے روزہ نہیں رکھا جو ہمیشہ (نفلی) روزے رکھتا ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5168]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5169
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ فَكَرِهَهُ وَقَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ روزے رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا اور یہ بات ارشاد فرمائی: ہر مہینے میں تین (نفلی) روزے رکھے جائیں گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5169]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8983)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں