مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابُ صِيَامِ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ .
ہفتے اور اتوار کے دن روزہ رکھنا
حدیث نمبر: 5198
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَصُمْ يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ، وَلَوْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَأَفْطِرْ عَلَيْهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِيهِمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِيهِمْ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم ہفتے کے دن روزہ نہ رکھو البتہ فرض کا معاملہ مختلف ہے اگر تمہیں (ہفتے کے دن) صرف کسی درخت کی چھال ملتی ہے، تو تم اس کے ذریعے ہی افطار کرو (یعنی روزہ نہ رکھو)“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسماعیل بن عیاش کے حوالے سے اہل حجاز سے نقل کی ہے، اور اہل حجاز کے بارے میں یہ راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5198]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسماعیل بن عیاش کے حوالے سے اہل حجاز سے نقل کی ہے، اور اہل حجاز کے بارے میں یہ راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5198]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7722)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5199
وَعَنْ كُرَيْبٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي نَاسٌ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَسْأَلُهَا: أَيُّ الْأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لَهَا صَوْمًا؟ فَقَالَتِ: السَّبْتُ وَالْأَحَدُ وَيَقُولُ:" هُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ، فَأُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
کریب بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کون سے دن زیادہ روزے رکھا کرتے تھے؟ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ہفتے اور اتوار کے دن آپ یہ فرماتے تھے: یہ دونوں دن مشرکین کی عید (کے دن ہیں)، تو مجھے یہ پسند ہے کہ میں ان کے برخلاف کروں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن حبان نے اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5199]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ابن حبان نے اسے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5199]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (283/22 و402)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5200
وَعَنْ عُبَيْدٍ الْأَعْرَجِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَتَغَدَّى وَذَلِكَ يَوْمَ السَّبْتِ فَقَالَ لَهَا:" تَعَالَيْ فَكُلِي". فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ. فَقَالَ:" صُمْتِ أَمْسِ؟". قَالَتْ: لَا! قَالَ:" كُلِي ; فَإِنَّ صِيَامَ يَوْمِ السَّبْتِ لَا لَكِ وَلَا عَلَيْكِ".
قُلْتُ: لَهَا حَدِيثٌ فِي صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ فِي السُّنَنِ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
قُلْتُ: لَهَا حَدِيثٌ فِي صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ فِي السُّنَنِ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
عبید اعرج بیان کرتے ہیں: میری دادی نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ناشتہ کر رہے تھے یہ ہفتے کے دن کی بات ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خاتون سے فرمایا تم آگے آؤ اور کھانا کھاؤ اس نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے گزشتہ کل روزہ رکھا تھا اس نے جواب دیا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تم کھا لو کیونکہ ہفتے کے دن کا روزہ نہ تمہارے حق میں ہو گا، اور نہ تمہارے خلاف ہو گا (یعنی نہ گناہ ہو گا، اور نہ ہی ثواب ملے گا)۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں، اس خاتون کے حوالے سے ہفتے کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں ایک حدیث ”سنن“ میں منقول ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5200]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں، اس خاتون کے حوالے سے ہفتے کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں ایک حدیث ”سنن“ میں منقول ہے، جو اس کے علاوہ ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5200]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (368/6)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5201
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ جُبَيْرٍ مَوْلَى خَارِجَةَ أَنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" لَا لَكِ وَلَا عَلَيْكِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعُمَيْرٌ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعُمَيْرٌ هَذَا لَمْ أَعْرِفْهُ.
عمیر بن جبیر، جو خارجہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں: وہ خاتون جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہفتے کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تھا اس نے انہیں یہ بات بتائی کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہ تمہیں اس بارے میں کچھ ملے گا نہ تمہارے خلاف کچھ ہو گا (یعنی نہ تمہیں ثواب ملے گا، اور نہ ہی تمہیں گناہ ہو گا)“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ عمیر نامی اس شخص سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5201]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ عمیر نامی اس شخص سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 5201]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (368/6)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف