مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْحَثِّ عَلَى النِّكَاحِ وَمَا جَاءَ فِي ذَلِكَ
نکاح کی ترغیب دینا اور اس بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 7297
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: عَكَّافُ بْنُ بِشْرٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا عَكَّافُ هَلْ لَكَ مِنْ زَوْجَةٍ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" وَلَا جَارِيَةٍ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" وَأَنْتَ مُوسِرٌ بِخَيْرٍ؟" قَالَ: وَأَنَا مُوسِرٌ بِخَيْرٍ. قَالَ:" أَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ، لَوْ كُنْتَ مِنَ النَّصَارَى كُنْتَ مِنْ رُهْبَانِهِمْ، إِنَّ سُنَّتَنَا النِّكَاحُ، شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ، وَأَرَاذِلُ مَوْتَاكُمْ عُزَّابُكُمْ، أَبِالشَّيَاطِينِ تَمْرُسُونَ؟ مَا لِلشَّيَاطِينِ سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا. وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ إِنَّهُنَّ صَوَاحِبُ أَيُّوبَ وَدَاوُدَ وَيُوسُفَ وَكُرْسُفَ". قَالَ لَهُ بِشْرُ بْنُ عَطِيَّةَ: مَنْ كُرْسُفُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" رَجُلٌ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ بِسَاحِلٍ مِنْ سَوَاحِلِ الْبَحْرِ ثَلَاثَمِائَةِ عَامٍ ؛ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، ثُمَّ إِنَّهُ كَفَرَ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ فِي سَبَبِ امْرَأَةٍ عَشِقَهَا وَتَرَكَ مَا كَانَ عَلَيْهِ مِنْ عِبَادَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ اسْتَدْرَكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَعْضِ مَا كَانَ مِنْهُ فَتَابَ عَلَيْهِ. وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ، وَإِلَّا فَأَنْتَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ". قَالَ: زَوِّجْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" زَوَّجْتُكَ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کا نام عکاف بن بشر تمیمی تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: اے عکاف! کیا تمہاری بیوی ہے؟ اس نے عرض کی: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کنیز بھی نہیں ہے؟ اس نے عرض کی! جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم بھلائی کے ساتھ خوشحال ہو؟ انہوں نے عرض کی: میں بھلائی کے ساتھ خوشحال ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی صورت میں تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ایک ہو، اگر تم عیسائیوں میں سے ہوتے، تو ان کے راہبوں میں سے ایک ہوتے، ہماری سنت نکاح کرنا ہے اور تم میں سے برے لوگ کنوارے ہیں اور تم میں بری موت کنواروں کو آتی ہے، کیا تم شیاطین کے راستے پر چلنا چاہتے ہو؟ شیاطین کا کوئی ہتھیار ایسا نہیں ہے، جو نیک لوگوں کے بارے میں، عورتوں سے زیادہ تیز ہو، البتہ شادی کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے، وہ لوگ پاک اور خیانت (یا فحاشی) سے بری ہوتے ہیں، اے عکاف! تمہارا سیتاناس ہو، یہ (خواتین) سیدنا ایوب علیہ السلام سیدنا داؤد علیہ السلام اور سیدنا یوسف علیہ السلام اور کرسف کی بیویاں رہی ہیں (یا یہ حضرات بھی شادی شدہ تھے)۔
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا بشر بن عطیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ”کرسف“ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص جو سمندر کے ایک ساحل پر تین سو سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا، وہ دن کے وقت روزہ رکھتا تھا اور رات کو نفل پڑھا کرتا تھا، پھر اس نے ایک عورت کے عشق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی جو عبادت کی تھی، اسے چھوڑ دیا، پھر اس کی کسی نیکی کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق بخشی، اس نے توبہ کی۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اے عکاف! تمہارا ستیاناس ہو، تم شادی کر لو! ورنہ تم درمیان کے لوگوں میں رہو گے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میری شادی کروا دیجیے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7297]
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا بشر بن عطیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ”کرسف“ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص جو سمندر کے ایک ساحل پر تین سو سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا، وہ دن کے وقت روزہ رکھتا تھا اور رات کو نفل پڑھا کرتا تھا، پھر اس نے ایک عورت کے عشق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی جو عبادت کی تھی، اسے چھوڑ دیا، پھر اس کی کسی نیکی کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ نے اسے توبہ کی توفیق بخشی، اس نے توبہ کی۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اے عکاف! تمہارا ستیاناس ہو، تم شادی کر لو! ورنہ تم درمیان کے لوگوں میں رہو گے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میری شادی کروا دیجیے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7297]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (163/5)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7298
وَعَنْ عَطِيَّةَ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: جَاءَ عَكَّافُ بْنُ وَدَاعَةَ الْهِلَالِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا عَكَّافُ أَلَكَ زَوْجَةٌ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" وَلَا جَارِيَةٌ؟" قَالَ: لَا. قَالَ:" وَأَنْتَ صَحِيحٌ مُوسِرٌ؟" قَالَ: نَعَمْ ؛ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ. قَالَ:" فَأَنْتَ إِذَنْ مِنْ إِخْوَانِ الشَّيَاطِينِ، إِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنْ رُهْبَانِ النَّصَارَى فَأَنْتَ مِنْهُمْ، وَإِمَّا أَنْ تَكُونَ مِنَّا. فَاصْنَعْ كَمَا نَصْنَعُ، فَإِنَّ مِنْ سُنَّتِنَا النِّكَاحَ. شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ، وَأَرَاذِلُ أَمْوَاتِكُمْ عُزَّابُكُمْ. أَبِالشَّيَاطِينِ يَمْرُسُونَ؟ مَا لَهُمْ فِي نَفْسِي سِلَاحٌ أَبْلَغُ فِي الصَّالِحِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِلَّا الْمُتَزَوِّجُونَ أُولَئِكَ الْمُطَهَّرُونَ الْمُبَرَّءُونَ مِنَ الْخَنَا" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي ذَرٍّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَيْحَكَ يَا عَكَّافُ تَزَوَّجْ، فَإِنَّكَ مِنَ الْمُذَبْذَبِينَ". قَالَ: فَقَالَ عَكَّافٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُزَوِّجَنِي مَنْ شِئْتَ. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَقَدْ زَوَّجْتُكَ عَلَى اسْمِ اللَّهِ وَبَرَكَتِهِ كَرِيمَةَ بِنْتَ كُلْثُومٍ الْحِمْيَرِيِّ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عطیہ بن بسر مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عکاف بن وداعہ ہلالی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے عکاف! کیا تمہاری بیوی ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا کنیز بھی نہیں ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم تندرست اور خوشحال ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! ہر طرح کی حمد، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تم شیاطین کے بھائیوں میں سے ہو، یا تو تم عیسائیوں کے راہبوں میں ہوتے، تو ان میں سے ایک ہوتے، اگر تم ہم میں سے ہو گے؟ تو تم وہ کرو، جس طرح ہم کرتے ہیں اور ہماری سنت میں نکاح کرنا شامل ہے، تمہارے برے لوگ کنوارے ہیں، اور بری موت کا شکار ہونے والے کنوارے ہیں کیا وہ شیطان کی پیروی کرنا چاہتے ہیں؟ میرے خیال میں شیاطین کا کوئی بھی ہتھیار، نیک لوگوں کے بارے اس سے زیادہ تیز نہیں ہے، جو مردوں اور عورتوں کا تعلق ہوتا ہے، البتہ شادی کرنے والے لوگوں کا معاملہ مختلف ہے، وہ پاک اور خیانت (یا فحاشی) سے بری ہوتے ہیں۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جو سیدنا ابوزر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کی مانند ہے، تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عکاف! تمہارا ستیاناس ہو تم شادی کر لو! کیونکہ تم درمیان کے لوگوں میں سے ہو (یا تذبذب کا شکار لوگوں میں سے ہو) راوی کہتے ہیں: سیدنا عکاف رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گا، جب تک آپ جس سے چاہیں، میری شادی نہیں کروا دیتے، راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر میں اللہ کا نام لے کر اور اس کی برکت کے ساتھ، تمہاری شادی کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کرواتا ہوں۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7298]
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7298]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6856)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7299
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَجَلِي إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَقِيتُ اللَّهَ بِزَوْجَةٍ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" شِرَارُكُمْ عُزَّابُكُمْ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگر میری زندگی کا صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو، تو میں ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا کہ میری بیوی موجود ہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تمہارے برے لوگ، تمہارے کنوارے ہیں“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے۔ اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7299]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے۔ اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7299]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2042)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7300
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَجَلِي إِلَّا عَشْرُ لَيَالٍ لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا يُفَارِقَنِي فِيهِنَّ امْرَأَةٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر مجھے یہ پتہ چل جائے کہ میری زندگی کے صرف دس دن باقی رہ گئے ہیں، تو میں اس بات کو پسند کروں گا کہ ان کے دوران میری بیوی مجھ سے جدا نہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے وہ ثقہ ہے، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7300]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے وہ ثقہ ہے، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7300]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ((9172)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7301
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ. وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَقُولُونَ: لَا نَتَزَوَّجُ. وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي يَقُلْنَ مِثْلَ ذَلِكَ. وَرَاكِبُ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ. فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ. وَقَالَ:" الْبَائِتُ وَحْدَهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الطَّيِّبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الطَّيِّبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نسوانیت ظاہر کرنے والے مردوں، جو عورتوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں، اور مردانگی کا اظہار کرنے والی عورتوں، جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں، اور مردوں میں سے کنوارے رہنے والے لوگوں، جو یہ کہتے ہیں کہ ہم شادی نہیں کریں گے، اور خواتین میں سے اکیلی رہنے والی عورتوں، جو اس کی مانند بات کہتی ہیں اور ویرانے میں تنہا سوار (ان سب پر) لعنت کی ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) یہ بات صحابہ کرام پر گراں گزری، اور یہ چیز ان کے چہروں سے ظاہر ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اس سے مراد یہ ہے) کہ جو تنہا رات گزارتا ہے (یعنی ویرانے میں رات کے وقت تنہا سفر کرتا ہے)۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طبیب بن محمد ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، عقیلی نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7301]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طبیب بن محمد ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، عقیلی نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7301]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7302
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَرْبَعَةٌ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَوْقَ عَرْشِهِ، وَأَمَّنَتْ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ: الَّذِي يُحْصِنُ نَفْسَهُ عَنِ النِّسَاءِ وَلَا يَتَزَوَّجُ، وَلَا يَتَسَرَّى لِأَنْ لَا يُولَدَ لَهُ [ وَلَدٌ ] ، وَالرَّجُلُ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ وَقَدْ خَلَقَهُ اللَّهُ ذَكَرًا، وَالْمَرْأَةُ تَتَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ وَقَدْ خَلَقَهَا اللَّهُ أُنْثَى، وَمُضَلِّلُ الْمَسَاكِينِ". قَالَ خَالِدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ: - يَعْنِي يَهْزَأُ بِهِمْ - يَقُولُ لِلْمِسْكِينِ: هَلُمَّ أَعْطِكَ فَإِذَا جَاءَهُ [ الرَّجُلُ ] قَالَ: لَيْسَ مَعِي شَيْءٌ. وَيَقُولُ لِلْمَكْفُوفِ: اتَّقِ الْبِئْرَ اتَّقِ الدَّابَّةَ، وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْءٌ. وَالرَّجُلُ يَسْأَلُ عَنْ دَارِ الْقَوْمِ فَيُرْشِدُهُ إِلَى غَيْرِهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعُكْلِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چار لوگ ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ نے عرش کے اوپر سے لعنت کی ہے اور فرشتوں نے اس پر آمین کہا: ہے، وہ شخص جو خواتین کے حوالے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے، اور شادی نہ کرے اور کوئی کنیز نہ رکھے کہ اس کے ہاں اولاد نہ ہو جائے، اور وہ شخص جو عورتوں کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مرد بنایا ہے اور وہ عورت جو مردوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اُسے عورت بنایا ہے اور مسکینوں کو گمراہ کرنے والا شخص“۔ خالد بن زبرقان بیان کرتے ہیں: اس سے مراد ان کا مذاق اڑانے والا شخص ہے، جیسے وہ کسی غریب سے یہ کہے کہ تم آؤ! تاکہ میں تمہیں کچھ دوں، جب دوسرا شخص اس کے پاس آئے تو وہ شخص کہے: میرے پاس کچھ نہیں ہے، یا نابینا سے یہ کہے کہ تم کنویں سے بچ کے رہو! تم جانور سے بچ جاؤ! حالانکہ اس کے آگے کچھ نہ ہو، یا کوئی شخص کسی علاقے کا پتہ دریافت کرے، تو وہ اس کی رہنمائی دوسرے راستے کی طرف کر دے۔
یہ روایت امام طبرانی نے حماد بن عبدالرحمن عکی کے حوالے سے خالد بن زبرقان سے نقل کی ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7302]
یہ روایت امام طبرانی نے حماد بن عبدالرحمن عکی کے حوالے سے خالد بن زبرقان سے نقل کی ہے اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7302]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7489)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7303
وَعَنْ أَبِي نَجِيحٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ كَانَ مُوسِرًا لِأَنْ يَنْكِحَ، ثُمَّ لَمْ يَنْكِحْ فَلَيْسَ مِنِّي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ حَسَنٌ ؛ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مُرْسَلٌ حَسَنٌ ؛ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ.
سیدنا ابونجیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص نکاح کرنے جتنا خوشحال ہو اور پھر وہ نکاح نہ کرے، تو اس کا مجھ سے تعلق نہیں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ”مرسل“ ہے اور حسن ہے، جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات بیان کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7303]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند ”مرسل“ ہے اور حسن ہے، جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات بیان کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7303]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (993) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (366/22)»
الحكم على الحديث: إسنادہ مرسل حسن۔
حدیث نمبر: 7304
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَى فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ شَبَابٍ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الطَّوْلَ فَلْيَنْكِحْ أَوْ فَلْيَتَزَوَّجْ وَإِلَّا فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس تشریف لائے، آپ نے فرمایا: اے نوجوانوں کے گروہ! تم میں سے جو شخص یہ قدرت رکھتا ہو، اسے نکاح کر لینا چاہیے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) اسے شادی کر لینی چاہیے، ورنہ اس پر روزہ رکھنا لازم ہے کیونکہ یہ اس کی شہوت کو ختم کر دے گا“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7304]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7304]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1398)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7305
وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ سَعْدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ فِطْرَتِي فَلْيَسْتَنَّ بِسُنَّتِي وَمِنْ سُنَّتِي النِّكَاحُ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِنْ كَانَ عُبَيْدُ بْنُ سَعْدٍ صَحَابِيٌّ وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِنْ كَانَ عُبَيْدُ بْنُ سَعْدٍ صَحَابِيٌّ وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ.
سیدنا عبید بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان پہنچا ہے: آپ نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص میری فطرت سے محبت رکھتا ہے، اُسے میری سنت کی پیروی کرنی چاہیے اور میری سنت میں نکاح کرنا شامل ہے“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اگرچہ سیدنا عبید بن سعد رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، لیکن
یہ روایت ”مرسل“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7305]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اگرچہ سیدنا عبید بن سعد رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، لیکن
یہ روایت ”مرسل“ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7305]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2748)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7306
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ وَمَنْ لَا فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: -، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے نوجوانوں کے گروہ! تم میں سے جو شخص صاحب حیثیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے اور جو نہ ہو، تو اس پر روزے رکھنا لازم ہے“۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا: ”یہ چیز (یعنی روزے رکھنا) اس کی شہوت کو ختم کر دے گی“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7306]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7306]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1399)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن