مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ تَزْوِيجِ الْوَلُودِ .
اولاد پیدا کرنے والی عورت کے ساتھ شادی کرنا
حدیث نمبر: 7338
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" انْكِحُوا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، فَإِنِّي أُبَاهِي بِهِمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حُيَيْ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حُيَيْ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورتوں کے ساتھ نکاح کرو! کیونکہ قیامت کے دن، میں دیگر امتوں کے سامنے اُن لوگوں پر فخر کروں گا“۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حیی بن عبداللہ معافری ہے، اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7338]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حیی بن عبداللہ معافری ہے، اس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7338]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (6598)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7339
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ:" تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے تھے اور کنوارے رہنے سے منع کرتے تھے، اور یہ حکم دیتے تھے: محبت کرنے والی اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی عورتوں کے ساتھ شادی کرو، کیونکہ قیامت کے دن میں دیگر انبیاء کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7339]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7339]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (158/3)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 7340
وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا عِيَاضُ لَا تَزَوَّجَنَّ عَجُوزًا، وَلَا عَاقِرًا، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عیاض بن غنم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عیاض! تم کسی بوڑھی، یا بانجھ عورت کے ساتھ شادی نہ کرنا، میں دیگر امتوں کے سامنے تم لوگوں کی کثرت پر فخر کروں گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7340]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7340]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (368/17)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7341
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" سَوْدَاءُ وَلُودٌ خَيْرٌ مِنْ حَسْنَاءَ لَا تَلِدُ إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُؤْتَى بِالسِّقْطِ مُحْبَنْطِئًا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، وَأَبَوَايَ؟ فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ أَنْتَ، وَأَبَوَاكَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الرَّبِيعِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الرَّبِيعِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی سیاہ فام عورت، ایسی خوبصورت عورت سے زیادہ بہتر ہے، جو اولاد پیدا نہیں کر سکتی قیامت کے دن میں دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا، یہاں تک کہ (قیامت کے دن) دنیا میں مردہ پیدا ہونے والے بچے کو لایا جائے گا، اُسے جنت کے دروازے پر لایا جائے گا اور یہ کہا: جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤ! تو وہ کہے گا: اے میرے پروردگار! اور میرے ماں باپ بھی؟ تو اس سے کہا: جائے گا: تم اور تمہارے ماں باپ جنت میں داخل ہو جاؤ“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7341]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7341]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (416/19)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7342
وَعَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا يَدَعُ أَحَدُكُمْ طَلَبُ الْوَلَدِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ وَلَيْسَ لَهُ وَلَدٌ انْقَطَعَ اسْمُهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”تم میں سے کوئی ایک شخص اولاد کی طلب کو ترک نہ کرے، کیونکہ جب آدمی مر جاتا ہے اور اس کی اولاد نہ ہو، تو اس کا نام منقطع ہو جاتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7342]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7342]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (210/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 7343
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَأَنْ يُرَبِّيَ أَحَدُكُمْ بَعْدَ أَرْبَعٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً جَرْوَ كَلْبٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يُرَبِّيَ وَلَدًا لِصُلْبِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السِّمْطُ وَصَالِحُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ السِّمْطُ وَصَالِحُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”چون سال کا ہو جانے کے بعد، اگر کوئی شخص کتے کے پلے کو پال پوس لے یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنے سگے بیٹے کو پالے پوسے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سمط اور ایک راوی صالح بن علی بن عبداللہ بن عباس ہے، میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7343]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سمط اور ایک راوی صالح بن علی بن عبداللہ بن عباس ہے، میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7343]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10685)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف