🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

26. بَابٌ فِيمَنْ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، [ ثُمَّ ] يَتَزَوَّجُهَا أَوْ يَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا أَوْ أُمَّهَا أَوْ يَتْبَعُ الْأُمَّ حَرَامًا .
اس شخص کا بیان، جو کسی عورت کے ساتھ زنا کر لیتا ہے اور پھر وہ اس عورت کے ساتھ شادی کر لیتا ہے، یا اس عورت کی بیٹی، یا اس کی ماں کے ساتھ شادی کر لیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7415
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الرَّجُلِ يَتْبَعُ الْمَرْأَةَ حَرَامًا أَيَنْكِحُ أُمَّهَا أَوْ يَتْبَعُ الْأُمَّ حَرَامًا أَيَنْكِحُ ابْنَتَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ إِنَّمَا يُحَرِّمُ مَا كَانَ بِنِكَاحٍ حَلَالٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی عورت کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کرتا ہے، کیا وہ اس عورت کی ماں کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے؟ یا کوئی شخص ماں کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرتا ہے، تو کیا وہ اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حرام چیز حلال کو حرام نہیں کرتی ہے، وہ چیز حرمت کو ثابت کرتی ہے، جو حلال نکاح کے ذریعے ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن زہری ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7415]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7416
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَائِشَةَ قَالَا: لَا يَزَالَا زَانِيَيْنِ مَا اجْتَمَعَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَالشَّعْبِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ أَيْضًا.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: وہ دونوں مسلسل زنا کرنے والے رہیں گے، جب تک وہ دونوں اکٹھے رہتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام شعبی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کیا ہے۔ انہوں نے
یہ روایت صحیح سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7416]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9674)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7417
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَنْكِحُهَا؟ قَالَ: هُمَا زَانِيَانِ مَا اجْتَمَعَا. فَقِيلَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا؟ فَقَالَ:، (وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ) . فَلَمْ يَزَلِ ابْنُ مَسْعُودٍ يُرَدِّدُهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَابْنُ سِيرِينَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَقَدْ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ.
ابن سیرین بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا: جو شخص کسی عورت کے ساتھ زنا کر لیتا ہے، تو پھر وہ اس کے ساتھ شادی کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ دونوں جب تک اکٹھے رہیں گے، وہ زنا کرنے والے شمار ہوں گے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ دونوں توبہ کر لیں اور نیک ہو جائیں؟ تو انہوں نے فرمایا: (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) وہی وہ (معبود) ہے، جو اپنے بندوں سے توبہ کو قبول کرتا ہے اور گناہوں سے درگزر کرتا ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ جو تم عمل کرتے ہو۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسلسل اس آیت کو دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا، کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، ابن سیرین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں۔ انہوں نے اسے متصل سند کے ساتھ نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے، جو اپنی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے، اس نے
یہ روایت عنعنہ کے ساتھ نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7417]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9670)»

الحكم على الحديث: إسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں