🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

39. بَابُ النَّظَرِ إِلَى مَنْ يُرِيدُ تَزْوِيجَهَا .
آدمی کا اس عورت کو دیکھنا، جس کے ساتھ وہ شادی کرنا چاہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7455
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا إِذَا كَانَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا لِخِطْبَتِهِ، وَإِنْ كَانَتْ لَا تَعْلَمُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ إِلَّا أَنَّ زُهَيْرًا شَكَّ فَقَالَ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ أَوْ أَبِي حُمَيْدَةَ. وَالْبَزَّارُ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص کسی عورت کو شادی کا پیغام بھیجے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ اس عورت کو دیکھ لے، وہ اس شادی کے پیغام کے حوالے سے اسے دیکھے گا، خواہ اس عورت کو علم نہ بھی ہو۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، تاہم زہیر نامی راوی نے شک کیا ہے کہ
یہ روایت سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، یا سیدنا ابوحمیدہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، امام بزار نے اسے کسی شک کے بغیر نقل کیا ہے، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کیا ہے، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7455]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1418) اخرجه احمد فى المسند (424/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7456
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ الْعَبَّاسِ وَهِيَ فَوْقَ الْفَطِيمِ فَقَالَ:" لَئِنْ بَلَغَتْ بُنَيَّةُ الْعَبَّاسِ هَذِهِ، وَأَنَا حَيٌّ لَأَتَزَوَّجَنَّهَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ: فَقُبِضَ قَبْلَ أَنْ تَبْلُغَ فَتَزَوَّجَهَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَوَلَدَتْ لَهُ رِزْقَ بْنَ الْأَسْوَدِ وَلُبَابَةَ بِنْتَ الْأَسْوَدِ سَمَّتْهَا بِاسْمِهَا أُمَّ الْفَضْلِ.
وَأَبُو يَعْلَى، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.
سیده ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ بنت عباس رضی اللہ عنہا کو دیکھا، جن کی عمر دودھ چھڑانے سے کچھ زیادہ تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر سیدنا عباس کی یہ صاحبزادی بالغ ہو گئی، اور میں اس وقت زندہ ہوا، تو میں اس کے ساتھ ضرور شادی کروں گا۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: اس لڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، تو اسود بن عبداللہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تھی اور اس خاتون نے اُن کے بچے رزق بن اسود، اور لبابہ بن اسود کو جنم دیا تھا، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے اس لڑکی کا نام اپنے نام پر ام فضل رکھا تھا۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، ان دونوں کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عباس ہے اور وہ متروک ہے، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7456]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7075) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (92/25) اخرجه احمد فى المسند (338/6)»

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7457
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً بِمَكَّةَ، وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: لَيْتَ عِنْدِي مَنْ يَرَاهَا وَمَنْ يُخْبِرُنِي عَنْهَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ يُدْعَى هِيتٌ: أَنَا أَنْعَتُهَا لَكَ إِذَا أَقْبَلَتْ قُلْتَ تَمْشِي عَلَى سِتٍّ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ قُلْتَ: تَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَرَى هَذَا مُنْكَرًا أَرَاهُ يَعْرِفُ أَمْرَ النِّسَاءِ". وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى سَوْدَةَ فَنَهَاهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَفَاهُ، وَكَانَ كَذَلِكَ حَتَّى أَمَرَهُ عُمَرُ فَجَهِدَ، وَكَانَ يُرَخِّصُ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الْمَدِينَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے مکہ میں ایک خاتون کو شادی کا پیغام دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا: کاش کوئی اس عورت کو دیکھ کر مجھے اس عورت کے بارے میں بتا دے، ایک شخص جس کا نام ہیت تھا، اس نے کہا: میں اس کا حلیہ آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں، جب وہ آتی ہے، تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چھ بل پڑتے ہیں اور جب وہ جاتی ہے، تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں وہ چار بل کے ساتھ چلتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس چیز کو منکر سمجھتا ہوں، اور اس شخص کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ عورتوں کے معاملے سے واقف ہے، وہ شخص پہلے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا جایا کرتا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس سے منع کر دیا کہ وہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئندہ آئے، جب وہ مدینہ منورہ آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جلا وطن کروا دیا، اور اس کا معاملہ اسی طرح رہا، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وہ بھوک کا شکار ہوا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے یہ اجازت دی کہ وہ جمعہ کے دن مدینہ آیا کرے، اور اسے صدقہ دے دیا جایا کرے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7457]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1493) اخرجه ابو يعلى فى المسند (758)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7458
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ فِي الْجَنَّةِ كَنْزًا، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا فَلَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ:" وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ". وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اے علی! تمہارے لئے جنت میں ایک خزانہ ہے، اور تم ذوالقرنین ہو، تم ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ ڈالنا، کیونکہ تمہیں صرف پہلی (نظر) کی اجازت ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: تمہیں دوسری (نظر) کی اجازت نہیں ہے امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7458]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1419)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں