مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ أَيِّ يَوْمٍ يَكُونُ التَّزْوِيجُ .
کون سے دن شادی کرنی چاہیے؟
حدیث نمبر: 7509
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: يَوْمُ الْأَحَدِ يَوْمُ عُرْسٍ وَبِنَاءٍ. وَيَوْمُ الِاثْنَيْنِ يَوْمُ السَّفَرِ وَيَوْمُ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَيَوْمُ الْأَرْبِعَاءِ يَوْمُ أَخْذٍ وَلَا عَطَاءَ فِيهِ، وَيَوْمُ الْخَمِيسِ يَوْمُ دُخُولٍ عَلَى السُّلْطَانِ وَيَوْمُ الْجُمُعَةِ يَوْمُ تَزْوِيجٍ وَبَاءَةٍ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اتوار کا دن شادی اور رخصتی کا دن ہے، پیر کا دن سفر کا دن ہے، منگل کا دن خون کا دن ہے، بدھ کا دن وصولی کا دن ہے، ادائیگی کا دن نہیں ہے، جمعرات کا دن حاکم وقت کے پاس جانے کا دن ہے، اور جمعہ کا دن شادی بیاہ کا دن ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7509]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7509]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2612)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7510
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ صَلَّى الْجُمُعَةَ وَصَامَ يَوْمَهُ وَعَادَ مَرِيضًا وَشَهِدَ جِنَازَةً وَشَهِدَ نِكَاحًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الْأَوْصَابِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الْأَوْصَابِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص جمعہ کی نماز ادا کرے، اور اس نے اس دن روزہ رکھا ہو، بیمار کی عیادت کی ہو، اور جنازے میں شریک ہوا ہو، اور نکاح میں شریک ہوا ہو، تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن اوصابی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7510]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن اوصابی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7510]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2369)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف