مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. بَابٌ فِيمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَوَجَدَ بِهَا عَيْبًا .
اس عورت کا بیان، جو کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے، اور پھر اس میں کوئی عیب پاتا ہے
حدیث نمبر: 7606
عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: صَحِبْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ - ذَكَرَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - يُقَالُ لَهُ: كَعْبُ بْنُ زَيْدٍ أَوْ زَيْدُ بْنُ كَعْبٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا فَوَضَعَ ثَوْبَهُ وَقَعَدَ عَلَى الْفِرَاشِ أَبْصَرَ بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَانْحَازَ عَنِ الْفِرَاشِ وَقَالَ:" خُذِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ" وَلَمْ يَأْخُذْ مِمَّا آتَاهَا شَيْئًا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَجَمِيلٌ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ. وَجَمِيلٌ ضَعِيفٌ.
جمیل بن زید بیان کرتے ہیں: میں انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ رہا ہوں جمیل نے یہ بات ذکر کی ہے کہ انہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل تھا ان کا نام سیدنا کعب بن زید رضی اللہ عنہ تھا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) سیدنا زید بن کعب تھا انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوغفار سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ شادی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے آپ نے اضافی لباس اتارا اور بستر پر بیٹھ گئے، آپ نے اس کے پہلول میں (برص کا) سفید نشان ملاحظہ فرمایا، تو آپ بستر سے اُٹھ گئے، اور فرمایا: تم اپنے لباس کو سنبھالو! (راوی کہتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے جو دیا تھا، اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس میں جمیل نامی راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7606]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس میں جمیل نامی راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7606]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (493/3)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7607
وَعَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ رَأَى بِكَشْحِهَا بَيَاضًا فَرَدَّهَا وَقَالَ:" دَلَّسْتُمْ عَلَيَّ".
وَجَمِيلٌ ضَعِيفٌ.
وَجَمِيلٌ ضَعِيفٌ.
جمیل بن زید بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوغفار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی جب آپ اس کے پاس تشریف لائے، تو آپ نے اس کے پہلو میں سفید داغ دیکھا تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: تم لوگوں نے میرے ساتھ تدلیس کی ہے۔ جمیل نامی راوی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7607]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5699)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7608
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَوَجَدَ بِهَا بَيَاضًا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَسْوَارِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی خاتون کے ساتھ شادی کی آپ نے اس میں سفید داغ دیکھا تو آپ نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی یہ اس کی رخصتی سے پہلے کی بات ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7608]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس اسواری ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7608]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5855)»
الحكم على الحديث: موضوع