صحيح الجامع الصغير وزيادته سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8195. يوشك أن يأتي زمان يغربل فيه الناس غربلة، وتبقى حثالة ....
قریب ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے جس میں لوگوں ....
حدیث نمبر: 8185
" يوشك أن يأتي زمان يغربل فيه الناس غربلة، وتبقى حثالة من الناس قد مرجت عهودهم وأماناتهم واختلفوا فكانوا هكذا - وشبك بين أصابعه - قالوا: كيف بنا يا رسول الله؟ قال: تأخذون ما تعرفون وتدعون ما تنكرون وتقبلون على أمر خاصتكم وتذرون أمر عامتكم"
(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:)
”قریب ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے جس میں لوگوں کو خوب چھانٹا جائے گا اور صرف نکمے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے عہد اور امانتیں گڈمڈ ہو چکی ہوں گی اور وہ آپس میں اس طرح اختلاف کریں گے - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر لیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (بھلائی) تم پہچانتے ہو اسے اختیار کرو اور جو (برائی) تم نہ پہچانو اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص معاملات کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حَرْفُ الْيَاءِ/حدیث: 8185]
”قریب ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے جس میں لوگوں کو خوب چھانٹا جائے گا اور صرف نکمے لوگ باقی رہ جائیں گے، جن کے عہد اور امانتیں گڈمڈ ہو چکی ہوں گی اور وہ آپس میں اس طرح اختلاف کریں گے - اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر لیں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہم کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو (بھلائی) تم پہچانتے ہو اسے اختیار کرو اور جو (برائی) تم نہ پہچانو اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص معاملات کی طرف متوجہ ہو جاؤ اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دو۔“ [صحيح الجامع الصغير وزيادته/حَرْفُ الْيَاءِ/حدیث: 8185]
تخریج الحدیث: «(صحيح) [حم د ك] عن ابن عمر. الصحيحة 205.»
قال الشيخ الألباني: صحيح