المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
155. باب (أحاديث 2225–2272)
باب (احادیث 2225 تا 2272)
حدیث نمبر: 2245
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ خَيْرِ ذِي يُمْنٍ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ» ، فَدَخَلَ جَرِيرٌ
قیس بن ابی حازم، سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس دروازے سے ایک ایسا شخص داخل ہوگا جو یمن کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا، اس کے چہرے پر فرشتے کی سی رونق ہوگی۔“ تو سیدنا جریر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2245]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 301، حدیث 2258»
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ:" كُنْتُ بِالْيَمَنِ، وَمَعِي ذُو كَلَاعٍ وَذُو عَمْرٍو، فَأَقْبَلْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ذُو عَمْرٍو: يَا جَرِيرُ إِنْ يَكُ صَاحِبُكَ كَمَا تَذْكُرُ، لَقَدْ أَتَى عَلَى أَجَلِهِ مُنْذُ ثَلَاثٍ، فَرَفَعَ لَنَا رَجُلٌ، فَقُلْنَا: مَا الْخَبَرُ، قَالُوا: قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ وَالنَّاسُ صَالِحُونَ ثُمَّ رَجَعْنَا، فَقَالَا أَقْرِئْ صَاحِبَكَ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ ذُو عَمْرٍو: يَا جَرِيرُ إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا صَالِحَينَ، مَا إِذَا هَلَكَ أَمِيرٌ، قَامَ أَمِيرٌ، فَإِذَا مَا كَانَ سُيُوفًا كُنْتُمْ مُلُوكًا تَرْضَوْنَ رِضَا الْمُلُوكِ، وَتَغْضَبُونَ غَضَبَ الْمُلُوكِ"
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں یمن میں تھا اور میرے ساتھ ذو کلاع اور ذو عمرو تھے۔ میں ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرنے لگا، تو ذو عمرو نے کہا: اے جریر! اگر تمہارے ساتھی کا وہی حال ہے جو تم بیان کر رہے ہو، تو تین دن پہلے ان کی اجل آ چکی ہے۔ پھر ہمارے سامنے ایک آدمی نمودار ہوا، ہم نے پوچھا: کیا خبر ہے؟ لوگوں نے بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے، اور لوگ نیک حالت پر ہیں۔ پھر ہم واپس آئے تو ان دونوں نے کہا: اپنے ساتھی کو ہمارا سلام پہنچا دینا۔ پھر ذو عمرو نے کہا: اے جریر! تم لوگ ہمیشہ نیک رہو گے، جب تک یہ حال رہے کہ جب کوئی امیر فوت ہو تو دوسرا امیر کھڑا ہو جائے۔ لیکن جب معاملہ تلواروں پر آ گیا تو تم بادشاہ بن جاؤ گے، بادشاہوں کی طرح راضی ہو گے اور بادشاہوں کی طرح ناراض ہو گے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 301، حدیث 2259»
حدیث نمبر: 2247
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَوا: ثنا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِثْلِ مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءَ: «مَنْ مَاتَ مِنَّا وَلَمْ يَأْتِ بِشَيْءٍ مِنْهُنَّ ضَمِنَ لَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ وَقَدْ أَتَى شَيْئًا مِنْهُنَّ وَقَدْ أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ، وَمَنْ مَاتَ مِنَّا وَأَتَى شَيْئًا مِنْهُنَّ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَعَلَى اللهِ حِسَابُهُ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیعت کی جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تھی: ”ہم میں سے جو مر جائے اور ان (گناہوں) میں سے کوئی کام نہ کیا ہو، اس کے لیے جنت کی ضمانت دی گئی۔ اور جو مر جائے اور ان میں سے کوئی گناہ کیا ہو اور اس پر حد قائم کر دی گئی ہو، تو یہ اس کا کفارہ ہے۔ اور جو ہم میں سے مر جائے اور ان میں سے کوئی گناہ کیا ہو مگر (دنیا میں) اس پر پردہ ڈالا گیا ہو، تو اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 302، حدیث 2260»
حدیث نمبر: 2248
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ»
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مشرکوں کے ساتھ رہائش رکھے، اس سے ذمہ داری (کا تعلق) ختم ہو گیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2248]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 302، حدیث 2261»
حدیث نمبر: 2249
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْأُرُزِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَأَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَرِئَتِ الذِّمَّةُ مِمَّنْ أَقَامَ مَعَ الْمُشْرِكِينَ فِي دِيَارِهِمْ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص مشرکوں کے درمیان ان کی بستیوں میں رہائش رکھے، اس سے ذمہ داری (کا تعلق) ختم ہو گیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2249]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 303، حدیث 2262»
حدیث نمبر: 2250
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سُلِبَتْ كَرِيمَتَيْهِ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی دونوں عزیز (آنکھیں) چھین لی گئیں، میں اسے ان کے بدلے جنت دوں گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2250]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 303، حدیث 2263»
حدیث نمبر: 2251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السِّرَاجُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ فَاعْتَصَمَ نَاسٌ مِنْهُمْ بِالسُّجُودِ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِمُ الْقَتْلَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: «إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ الْمُشْرِكِينَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَلِمَ، قَالَ: «لَا تَرَاءَى نارَهُمَا»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم کی طرف ایک لشکر (سریہ) بھیجا، تو ان میں سے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے پناہ لینے کی کوشش کی، لیکن (لشکر نے) جلدی سے انہیں قتل کر دیا۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے آدھی دیت کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہائش رکھے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیوں؟ فرمایا: ”دونوں کی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے (یعنی وہ ان سے الگ رہیں)۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2251]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 303، حدیث 2264»
حدیث نمبر: 2252
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ الْكُوفِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى خَثْعَمٍ فَلَمَّا غَشِيَتْهُمُ الْخَيْلُ اعْتَصَمُوا بِالصَّلَاةِ فَقُتِلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَعَلَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِصْفَ الْعَقْلِ بِصَلَاتِهِمْ، وَقَالَ: «إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم کی طرف ایک لشکر بھیجا، جب گھوڑ سوار ان پر چھا گئے تو انہوں نے نماز پڑھ کر پناہ لینے کی کوشش کی، پھر بھی ان میں سے ایک آدمی قتل کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز کے سبب ان کے لیے آدھی دیت مقرر کی اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرک کے ساتھ رہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2252]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 303، حدیث 2265»
حدیث نمبر: 2253
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، قَالَا: ثنا حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: لَمَّا بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَيْتُهُ لِأُبَايِعَهُ، فَقَالَ: «لِأَيِّ شَيْءٍ جِئْتَ يَا جَرِيرُ؟» قُلْتُ: جِئْتُ لِأُسْلِمَ عَلَى يَدَيْكَ، قَالَ: «فَدَعَانِي إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ» قَالَ: فَأَلْقَى إِلَيَّ كِسَاءَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «إِذَا جَاءَكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الْحَضْرَمِيِّ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جریر! کس لیے آئے ہو؟“ میں نے عرض کی: میں آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے آیا ہوں۔ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات کی گواہی دینے کی دعوت دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور فرض نماز قائم کرنے، فرض زکاۃ ادا کرنے، اور تقدیر کے اچھے اور برے دونوں پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر میری طرف ڈال دی، پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز فرد آئے تو اس کی عزت کرو۔“ (یہ الفاظ حضرمی کی روایت کے ہیں) [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2253]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 304، حدیث 2266»
حدیث نمبر: 2254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ الْأَحْمَسِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ إِبْلِيسَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ»
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ سرزمینِ عرب میں اس کی عبادت کی جائے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2254]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 304، حدیث 2267»