🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1. باب الحاء
حرف ”حاء“ کا باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2542
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ يَقُولُ: «مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَنَةَ ثَمَانٍ وَأَرْبَعِينَ»
محمد بن عبداللہ بن نمیر کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سنہ اڑتالیس ہجری میں وفات پا گئے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2542]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 25، حدیث 2555»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2543
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَنَةَ تِسْعٍ وَأَرْبَعِينَ، وَصَلَّى عَلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَكَانَ مَوْتُهُ بِالْمَدِينَةِ وَسِنُّهُ سِتٌّ أَوْ سَبْعٌ وَأَرْبَعُونَ، وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ»
یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سنہ انچاس ہجری میں وفات پا گئے، اور سعید بن العاص نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اور ان کی وفات مدینہ میں ہوئی، اور ان کی عمر چھیالیس یا سینتالیس برس تھی، اور ان کی کنیت ابومحمد تھی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2543]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 26، حدیث 2556»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2544
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: «كَانَتِ الْفِتْنَةُ خَمْسَ سِنِينَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، وَكَانَتِ الْجَمَاعَةُ عَلَى مُعَاوِيَةَ سَنَةَ أَرْبَعِينَ»
عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے لیے فتنہ پانچ سال رہا، جس میں سے چار مہینے (ان کی خلافت کے) تھے، اور امتِ مسلمہ سنہ چالیس ہجری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر متفق ہو گئی۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2544]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 26، حدیث 2557»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَدِينِيُّ، ثنا أَبُو زَيْدٍ عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: «وَفِيهَا مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ»
ابونعیم کہتے ہیں: ”اسی سال سیدنا حسن بن علی اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا، سنہ اٹھاون ہجری میں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2545]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 26، حدیث 2558»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2546
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّخِيلَةِ حِينَ صَالَحَهُ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: إِذَا كَانَ ذَا فَقُمْ فَتَكَلَّمْ، وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ سَلَّمْتَ هَذَا الْأَمْرَ لِي. وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: أَخْبِرِ النَّاسَ بِهَذَا الْأَمْرِ الَّذِي تَرَكْتَهُ لِي. فَقَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ - قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَأَنَا أَسْمَعُ - ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التُّقَى، وَإِنَّ أَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ، وَإِنَّ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي اخْتَلَفْتُ فِيهِ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ إِمَّا كَانَ حَقًّا لِي تَرَكْتُهُ لِمُعَاوِيَةَ إِرَادَةَ صَلَاحِ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَحَقْنِ دِمَائِهِمْ، أَوْ يَكُونُ حَقًّا كَانَ لِامْرِئٍ أَحَقَّ بِهِ مِنِّي، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، {وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ} [الأنبياء: ١١١]
شعبی کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو نخیلہ کے مقام پر اس وقت دیکھا جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے صلح کی، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”جب ایسا ہو جائے تو کھڑے ہو کر خطاب کرو، اور لوگوں کو بتاؤ کہ تم نے یہ معاملہ میرے سپرد کر دیا ہے۔“ (راوی سفیان کبھی یوں بھی کہتے تھے: لوگوں کو اس معاملے کے بارے میں بتاؤ جو تم نے میرے لیے چھوڑ دیا ہے) تو وہ کھڑے ہوئے اور منبر پر خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی - شعبی کہتے ہیں: اور میں سن رہا تھا - پھر فرمایا: ”حمد و صلاۃ کے بعد: بے شک سب سے بڑی دانشمندی تقویٰ ہے، اور سب سے بڑی حماقت گناہ ہے، اور یہ معاملہ جس میں میرا اور معاویہ کا اختلاف ہوا، یا تو وہ میرا حق تھا جو میں نے اس امت کی اصلاح اور ان کا خون بہنے سے بچانے کی خاطر معاویہ کے لیے چھوڑ دیا، یا وہ کسی ایسے شخص کا حق تھا جو مجھ سے زیادہ اس کا مستحق تھا، تو میں نے ایسا ہی کیا، ”اور میں نہیں جانتا، شاید یہ تمہارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک مدت تک کے لیے فائدہ اٹھانا ہو“ [سورۃ الانبیاء: 111] ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2546]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 26، حدیث 2559»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2547
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْأَصَمِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُوَ فِي دَارِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَرْجِعُ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ. فَضَحِكَ وَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ، لَوْ عَلِمْنَا ذَلِكَ مَا زَوَّجْنَا نِسَاءَهُ، وَلَا سَاهَمْنَا مِيرَاثَهُ»
راوی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، وہ عمرو بن حریث کے گھر میں تھے، میں نے عرض کیا: کچھ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قیامت سے پہلے واپس آئیں گے۔ اس پر وہ ہنس پڑے اور فرمایا: ”سبحان اللہ! اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا تو نہ ہم ان کی بیویوں کی شادیاں کرتے، اور نہ ہی ان کی میراث تقسیم کرتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2547]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 26، حدیث 2560»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2548
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" مَتَّعَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَتَيْنِ بِعِشْرِينَ أَلْفًا وَزِقَاقٍ مِنْ عَسَلٍ، فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا، وَأُرَاهَا حَنَفِيَّةَ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ"
حسن بن سعد کے والد کہتے ہیں: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے دو عورتوں کو بیس ہزار (درہم) اور شہد کے کئی مشکیزے بطور متعہ (جدائی کا تحفہ) دیا، تو ان میں سے ایک نے - اور میرا خیال ہے کہ وہ حنفیہ تھیں - کہا: ”یہ تو جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے تھوڑا سا سامان ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2548]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 27، حدیث 2561»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں