🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

68. السائب بن يزيد، عن معاوية
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16761
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَقَالَ: «لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ» . زَادَ هَوْذَةُ فِي حَدِيثِهِ: أَلَّا تُوصَلَ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ
عمر بن ابی الخوار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے انہیں سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے اس بات کے بارے میں پوچھیں جو انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے نماز میں دیکھی تھی، تو انہوں نے کہا: میں نے ان کے ساتھ مقصورہ میں جمعہ پڑھا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا، جب وہ اندر گئے تو انہوں نے مجھے بلوایا اور فرمایا: ”جو تم نے کیا دوبارہ نہ کرنا، جب تم جمعہ پڑھ لو تو اس کے ساتھ فوراً کوئی نماز نہ ملاؤ یہاں تک کہ بات کر لو یا باہر نکل جاؤ، کیونکہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا تھا۔“ ہوذہ نے اپنی روایت میں مزید کہا: کہ اسے کسی نماز کے ساتھ نہ ملایا جائے یہاں تک کہ بات کر لے یا باہر نکل جائے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16761]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 315، حدیث 712»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16762
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيَّ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: «أَيْنَ كُنْتَ؟» ، قُلْتُ: كُنْتُ أُصَلِّي، فَقَالَ: «تُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ؟» ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: «فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنِّي أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
عبداللہ بن سائب رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عصر کے بعد مجھے بلوایا اور فرمایا: ”تم کہاں تھے؟“ میں نے عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: ”عصر کے بعد نماز پڑھتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے طریقے) کو زیادہ جانتا ہوں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16762]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 315، حدیث 713»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16763
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ: أَخْبَرَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ: «نَهَى عَنِ السَّجْدَتَيْنِ تُصَلَّيَانِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ، وَالسَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ» ، يَقُولُ مُعَاوِيَةُ: وَأَنَا أَعْلَمُ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبداللہ بن سائب رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے انہیں بتایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مسجد میں جمعہ کے بعد پڑھی جانے والی دو رکعتوں اور عصر کے بعد کی دو رکعتوں سے منع فرمایا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو زیادہ جانتا ہوں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16763]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 316، حدیث 714»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16764
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ السُّكَّرِيُّ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعَرٍ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ هَذِهِ، وَقَالَ: «إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ»
امام زہری رحمہ اللہ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے سنا، اور ان کے ہاتھ میں بالوں کی ایک لٹ تھی، تو انہوں نے کہا: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے سنا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے لوگ اسی وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اسے اختیار کیا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16764]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 316، حدیث 715»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16765
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يَفْرِضِ اللهُ صِيَامَهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ»
امام زہری رحمہ اللہ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اے اہلِ مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”یہ عاشوراء کا دن ہے، اللہ نے اس کا روزہ فرض نہیں کیا، اور میں روزہ دار ہوں، پس جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16765]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 316، حدیث 716»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں