🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

137. عبيدة بن المهاجر أبو عبد رب، عن معاوية
عبیدہ بن مہاجر، ابوعبدرب، کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16915
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ رَبٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا بَلَاءٌ وَفِتْنَةٌ، وَإِنَّمَا مَثَلُ أَحَدِكُمْ مِثْلُ الْوِعَاءِ إِذَا طَابَ أَعْلَاهُ طَابَ أَسْفَلُهُ»
ابوعبد رب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”دنیا میں سے صرف آزمائش اور فتنہ باقی رہ گیا ہے، اور تم میں سے ہر ایک کی مثال برتن جیسی ہے، جب اس کا اوپری حصہ پاکیزہ ہو تو اس کا نچلا حصہ بھی پاکیزہ ہوتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16915]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 368، حدیث 866»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16916
حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ جَابِرٍ، ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ الْمُهَاجِرِ أَبُو عَبْدِ رَبٍّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، عَلَى الْمِنْبَرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ رَجُلًا أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ فَأَتَى رَجُلًا، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا كُلُّهُمْ يَقْتُلُهَا ظُلْمًا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟، فَقَالَ: لَا، فَقَتَلَهُ، وَأَتَى آخَرٌ، فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ كُلُّهَا ظُلْمًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟، قَالَ: إِنْ حَدَّثْتُكَ أَنَّ اللهَ لَا يَتُوبُ عَلَى مِنْ تَابَ فَقَدْ كَذَبْتُكَ، هَهُنَا مَكَانٌ فِيهِ قَوْمٌ يَتَعَبَّدُونَ، فَائْتِهِمْ تَعْبُدِ اللهَ مَعَهُمْ، فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِمْ فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ، فَاخْتَصَمَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَبَعَثَ اللهُ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، قَالَ: قِيسُوا بَيْنَ الْمَكَانَيْنِ فَأَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَبَ فَهُوَ مِنْهُمْ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى دَيْرِ التَّوَّابِينَ بِأَنْمُلَةٍ، فَغُفِرَ لَهُ «،» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الْوَلِيدِ"
ابوعبد رب عبیدہ بن مہاجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بیان کرتے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”ایک شخص جس نے اپنی جان پر زیادتی کی تھی، ایک آدمی کے پاس آیا اور کہا: اس (شخص یعنی مجھ) نے ننانوے جانیں قتل کی ہیں، ان سب کو ظلم سے قتل کیا ہے، تو کیا میرے لیے کوئی توبہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو اس نے اسے (بھی) قتل کر دیا۔ پھر وہ ایک دوسرے شخص کے پاس آیا اور کہا: اس (شخص) نے سو جانیں قتل کی ہیں، سب ظلم سے، تو کیا اس کے لیے کوئی توبہ ہے؟ اس نے کہا: اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اللہ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کرتا تو میں نے تم سے جھوٹ بولا۔ یہاں ایک جگہ ہے جس میں کچھ لوگ عبادت کرتے ہیں، تم ان کے پاس جاؤ اور ان کے ساتھ اللہ کی عبادت کرو۔ چنانچہ وہ ان کی طرف چل پڑا اور اسی حال میں فوت ہو گیا۔ تو رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں جھگڑا ہو گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا، جس نے کہا: دونوں جگہوں کے درمیان فاصلہ ناپو، وہ جس جگہ کے زیادہ قریب ہو وہ انہی میں سے شمار ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے توبہ کرنے والوں کی عبادت گاہ کے ایک پور زیادہ قریب پایا، تو اسے بخش دیا گیا۔“
اور یہ الفاظ ولید کی روایت کے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16916]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 369، حدیث 867»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16917
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ رَبٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ لَا يُغْلَبُ، وَلَا يُخْلَبُ، وَلَا يُنَبَّأُ بِمَا لَا يَعْلَمُ، مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ»
ابوعبد رب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بے شک اللہ نہ مغلوب کیا جا سکتا ہے، نہ دھوکہ دیا جا سکتا ہے، اور نہ اسے کسی ایسی بات کی خبر دی جا سکتی ہے جو وہ نہ جانتا ہو۔ جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 16917]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 369، حدیث 868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں