المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
231. أبو الطفيل عامر بن واثلة، عن معاذ
سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17237
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17237]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 57، حدیث 101»
حدیث نمبر: 17238
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، أَنَّ مُعَاذًا أَخْبَرَهُ، أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكٍ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمِيعًا، قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ إِنْ شَاءَ اللهُ غَدًا عَيْنَ تَبُوكٍ، وَإِنَّكُمْ تَأْتُونَهَا لِضُحَى النَّهَارِ، فَمَنْ جَاءَهَا فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا، حَتَّى آتِي» قَالَ: فَجِئْنَا وَقَدْ سَبَقَ إِلَيْهَا رَجُلَانِ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا؟» قَالَا: نَعَمْ، فَشَتَمَهُمَا، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ غَرَفُوا مِنَ الْعَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ قَلِيلًا حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ، ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ كَثِيرٍ وَاسْتَقَى النَّاسُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَى مَا هَهُنَا قَدْ مُلِئَ جَانًّا» هَكَذَا قَالَ الدَّبَرِيُّ ووَهِمَ فِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ قَدْ مُلِئَ جِنَانًا
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کی طرف نکلے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر اکٹھا پڑھا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز مؤخر کی، پھر نکلے اور ظہر و عصر اکٹھی پڑھیں، پھر (اندر) داخل ہوئے، پھر نکلے اور مغرب و عشاء اکٹھی پڑھیں، پھر فرمایا: ”تم لوگ ان شاء اللہ کل تبوک کے چشمے پر پہنچو گے، اور تم وہاں دن چڑھے پہنچو گے، تو جو بھی وہاں پہنچے وہ اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے یہاں تک کہ میں آ جاؤں۔“ راوی کہتے ہیں: ہم وہاں پہنچے تو دو آدمی ہم سے پہلے وہاں پہنچ چکے تھے، اور چشمہ جوتے کے تسمے کی مانند تھا، اس میں سے تھوڑا سا پانی رِس رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا: ”کیا تم نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا؟“ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا کہا، پھر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے چشمے میں سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالا یہاں تک کہ کچھ پانی جمع ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر وہ پانی دوبارہ چشمے میں ڈال دیا، تو چشمہ بہت زیادہ پانی کے ساتھ بہنے لگا اور لوگوں نے سیراب ہو کر پانی پیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! عنقریب، اگر تمہیں لمبی زندگی ملی، تو تم دیکھو گے کہ یہ جگہ جنوں سے بھر گئی ہے۔“
دبری راوی نے اسی طرح کہا اور اس میں وہم کیا، دراصل یہ (لفظ) ”قد ملئ جنانا“ یعنی باغات سے بھر گئی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17238]
دبری راوی نے اسی طرح کہا اور اس میں وہم کیا، دراصل یہ (لفظ) ”قد ملئ جنانا“ یعنی باغات سے بھر گئی ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17238]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 57، حدیث 102»
حدیث نمبر: 17239
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، مَوْلَى حَكِيمٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، يَقُولُ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ، وَكَانَ لَا يَرُوحُ حَتَّى يُبْرِدَ، ثُمَّ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، ثُمَّ يَنْزِلَ إِذَا أَمْسَى فَيَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر تب تک شروع نہ کرتے جب تک ٹھنڈک نہ ہو جاتی، پھر ظہر و عصر کو اکٹھا کر لیتے، پھر جب شام ہوتی تو اترتے اور مغرب و عشاء کو اکٹھا کر لیتے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17239]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 58، حدیث 103»
حدیث نمبر: 17240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حَدَّثَهُ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ حَتَّى رَجَعْنَا»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو جمع کیا، یہاں تک کہ ہم واپس آ گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17240]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 58، حدیث 104»
حدیث نمبر: 17241
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ، وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر و عصر کو اکٹھا پڑھتے، اور مغرب و عشاء کو اکٹھا پڑھتے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17241]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 58، حدیث 105»
حدیث نمبر: 17242
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ قَالَا: ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكًا فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت گرمی میں تبوک کی طرف غزوہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17242]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 58، حدیث 106»
حدیث نمبر: 17243
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «جَمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17243]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 59، حدیث 107»
حدیث نمبر: 17244
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكٍ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17244]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 59، حدیث 108»
حدیث نمبر: 17245
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ، فَمَا مَسَسْتُ شَيْئًا أَلْيَنَ مِنْ جِلْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا وَجَدْتُ رَائِحَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا مُعَاذُ هَلْ سَمِعْتَ مُنْذُ اللَّيْلَةِ حِسًّا؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ:" إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ: مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَلَا أَخْرُجُ إِلَى النَّاسِ فَأُبَشِّرَهُمْ؟ قَالَ: «دَعْهُمْ فَلْيَسْتَبِقُوا الصِّرَاطَ»
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد سے زیادہ نرم کوئی چیز نہیں چھوئی، اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے زیادہ عمدہ کوئی خوشبو پائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم نے آج رات کوئی آواز سنی؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے رب کی طرف سے میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو شخص اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے بغیر مرے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کے پاس نکل کر انہیں یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں رہنے دو تاکہ وہ (نیکی کی) راہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17245]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 59، حدیث 109»