المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
255. الحسن بن جابر القرشي، عن معاذ بن جبل
حسن بن جابر قرشی کی سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17333
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا عَقِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ، عَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ جَابِرٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ خَشْخَشَةً، فَأَخَذَهُ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَنَا شَيْطَانٌ، فَقَالَ: أَجِبْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعْنِي فَإِنِّي لَا أَعُودُ، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَلَمَّا غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا مُعَاذُ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟» قَالَ: سَرَّحْتُهُ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ إِذَا هُوَ قَدْ حَسَّ بِهِ فَأَخَذَهُ، فَطَلَبَ إِلَيْهِ أَيْضًا، وَحَلَفَ أَنْ لَا يَعُودَ، فَخَلَّى عَنْهُ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ حَسَّ بِهِ وَأَخَذَهُ، وَطَلَبَ إِلَيْهِ أَيْضًا، وَحَلَفَ أَنْ لَا يَعُودَ، فَأَبَى أَنْ يُسَرِّحَهُ، فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي حَتَّى أُعَلِّمَكَ آيَةً إِذَا قَرَأْتَهَا لَمْ نَقْرَبْ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ، وَعَلَّمَهُ آيَةَ الْكُرْسِيِّ، فَخَلَّى عَنْهُ وَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ، فَقَالَ: «صَدَقَ وَإِنْ كَانَ كَذُوبًا»
حسن بن جابر قرشی رحمہ اللہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک کھڑکھڑاہٹ کی آواز سنی، تو اسے پکڑ لیا اور کہا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں شیطان ہوں، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں دوبارہ نہیں آؤں گا، تو اس نے اسے چھوڑ دیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صبح حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ اس نے کہا: میں نے اسے چھوڑ دیا، پھر جب دوسری رات ہوئی تو اسے پھر محسوس کر کے پکڑ لیا، اس نے پھر التجا کی اور قسم کھائی کہ دوبارہ نہیں آئے گا، تو اس نے اسے چھوڑ دیا، پھر جب تیسری رات ہوئی تو اسے پھر محسوس کر کے پکڑ لیا، اور اس نے پھر التجا کی اور قسم کھائی کہ دوبارہ نہیں آئے گا، تو اس بار اس نے اسے چھوڑنے سے انکار کر دیا، تو اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو تاکہ میں تمہیں ایک آیت سکھا دوں کہ جب تم اسے پڑھو گے تو ہم اس جگہ کے قریب نہیں آئیں گے، تو اس نے اسے آیت الکرسی سکھا دی، تو اس نے اسے چھوڑ دیا، اور صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور جو کچھ ہوا وہ بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا حالانکہ وہ بڑا جھوٹا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17333]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 101، حدیث 197»