🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

284. عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن معاذ
عمرو بن مرہ کی، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17403
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ بَرِيمٍ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، كِلَاهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَالْإِمَامُ عَلَى حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ»
ہبیرہ بن بریم رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، اور عمرو بن مرہ رحمہ اللہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ کے واسطے سے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، دونوں (سیدنا علی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے آئے اور امام کسی حال میں ہو، تو وہ بھی وہی کرے جو امام کر رہا ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17403]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 132، حدیث 267»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17404
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَشْيَاخِهِمْ، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ اپنے بزرگوں کے واسطے سے، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17404]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 132، حدیث 268»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17405
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ، ثنا خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17405]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 132، حدیث 269»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17406
حَدَّثَنَا أَبُو مَعِينٍ ثَابِتُ بْنُ نُعَيْمٍ الْهُوجِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، وَأُحِيلَ الصَّوْمُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكِ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا} [البقرة: ١٤٤] ، فَتَوَجَّهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَكَانَ هَذَا حَالًا، وَكَانُوا مُجْتَمِعِينَ فِي الصَّلَاةِ وَيُؤَذِّنُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا أَنْ يَنْقُسُوا، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ أَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ حَدَّثْتُكَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ نَائِمًا، بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، رَأَيْتُ شَخْصًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ قَائِمًا فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْأَذَانِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِ أَذَانِهِ: اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، ثُمَّ تُمَهَّلَ شَيْئًا، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: «عَلِّمْهَا بِلَالًا» ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِهَا بِلَالٌ، وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَطَافَ بِيَ مِثْلُ الَّذِي أَطَافَ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ سَبَقَنِي إِلَيْكَ، فَهَذَانِ حَوْلَانِ، وَكَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ قَدْ سَبَقَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ فَيُشِيُرونَ إِلَيْهِمْ كَمْ صَلَّى بِالْأَصَابِعِ وَاحِدَةً ثِنْتَيْنِ، فَجَاءَ مُعَاذٌ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: لَا أَجِدُهُ فِي حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَضَيْتُ فَجَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، فَدَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَامَ مُعَاذٌ يَقْضِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ، فَهَكَذَا فَافْعَلُوا» ، فَهَذِهِ ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ، وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَصَامَ عَاشُورَاءَ، وَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعٍ إِلَى شَهْرِ رَبِيعٍ إِلَى شَهْرِ رَمَضَانَ، ثُمَّ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ شَهْرَ رَمَضَانَ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ} [البقرة: ١٨٣] إِلَى قَوْلِهِ: {فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} [البقرة: ١٨٤] فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ طَعِمَ وَأَجْزَأَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّ اللهَ أَثْبَتَ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ، وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ، وَثَبَّتَ الْإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} [البقرة: ١٨٥] وَكَانُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ، وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَا لَمْ يَنَامُوا، فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: صِرْمَةُ ظَلَّ يَوْمَهُ صَائِمًا يَعْمَلُ، فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ قَدْ جَهِدَ جَهْدًا شَدِيدًا، فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَهِدْتَ؟» فَقَالَ: إِنِّي ظَلَلْتُ أَمْسِ أَعْمَلُ، فَجِئْتُ فَنِمْتُ قَبْلَ أَنْ أُفْطِرَ، وَجَاءَ عُمَرُ وَقَدْ أَصَابَ مِنْ أَهْلِهِ بَعْدَمَا نَامَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ: الرَّفَثُ: إِلَى نِسَائِكُمْ} [البقرة: ١٨٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز تین حالتوں سے گزر کر (اپنی موجودہ صورت پر) مقرر ہوئی، اور روزہ بھی تین حالتوں سے گزرا۔ رہیں نماز کی حالتیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: ﴿ہم آپ کا چہرہ آسمان کی طرف بار بار اٹھتا دیکھ رہے ہیں، پس ہم آپ کو ضرور اس قبلے کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں﴾ [البقرہ: 144] ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف رخ کر لیا، یہ ایک حالت ہوئی۔ اور صحابہ نماز کے لیے جمع ہوتے تھے اور ایک دوسرے کو (زبانی) اطلاع دے دیتے تھے، یہاں تک کہ وہ ناقوس بجانے لگے یا ناقوس بجانے کے قریب پہنچ گئے، پھر عبداللہ بن زید نامی ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں آپ کو بتاؤں (تو سنیں): میں سویا ہوا نہیں تھا، نیند اور بیداری کے درمیان تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے دو سبز کپڑے پہن رکھے تھے، وہ کھڑا ہوا اور قبلہ رخ ہو کر بولا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، یہاں تک کہ اذان دو دو بار مکمل کی، پھر اپنی اذان کے آخر میں کہا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الٰہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)، پھر کچھ دیر ٹھہرا، پھر کھڑے ہو کر وہی الفاظ دہرائے، سوائے اس کے کہ اس نے یہ اضافہ کیا: قد قامت الصلاۃ (نماز کھڑی ہو گئی)، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بلال کو سکھاؤ“، چنانچہ سب سے پہلے اسے اذان دینے والے بلال رضی اللہ عنہ تھے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بھی بالکل وہی خواب آیا جو عبداللہ بن زید کو آیا تھا، سوائے اس کے کہ وہ آپ کے پاس مجھ سے پہلے پہنچ گئے، تو یہ دو واقعات ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: اور صحابہ نماز کے لیے آتے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض نماز پہلے پڑھا چکے ہوتے، تو وہ انگلیوں سے اشارہ کرتے کہ کتنی رکعتیں (پڑھی گئیں) - ایک، دو، (وغیرہ)۔ تو معاذ رضی اللہ عنہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نماز پہلے پڑھا لی تھی، تو وہ (بھی) نماز میں داخل ہو گئے، (پھر) انہوں نے کہا: میں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو) جس حال میں بھی پاتا ہوں اسی حال میں شامل ہو جاتا ہوں، پھر بعد میں (چھوٹی ہوئی) پوری کر لیتا ہوں۔ چنانچہ (ایک بار پھر) وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نماز پہلے پڑھا لی تھی، تو وہ نماز میں داخل ہو گئے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مکمل کر چکے تو معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر باقی نماز پوری کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ نے تمہارے لیے یہ طریقہ مقرر کیا ہے، تم بھی ایسا ہی کرو۔“ یہ تین واقعات ہوئے۔ اور رہے روزے کے احوال، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے لگے، اور عاشوراء کا روزہ رکھا، اور ربیع سے رمضان تک سترہ مہینے (اسی طرح) روزے رکھے، پھر اللہ عزوجل نے آپ پر رمضان کا روزہ فرض کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نازل کیا: ﴿تم پر روزے فرض کیے گئے﴾ [البقرہ: 183] یہاں تک کہ ﴿فدیہ ایک مسکین کا کھانا﴾ [البقرہ: 184] تک، تو جو چاہتا روزہ رکھتا، اور جو چاہتا کھانا کھلاتا اور یہ اس کے لیے کافی ہوتا، پھر اللہ نے مقیم صحت مند شخص پر روزہ لازم قرار دے دیا، اور مریض و مسافر کے لیے رخصت دی، اور اس بوڑھے کے لیے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو کھانا کھلانے کو باقی رکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نازل کیا: ﴿رمضان کا مہینہ، جس میں قرآن نازل کیا گیا، لوگوں کے لیے ہدایت اور ہدایت و فرقان کی واضح دلیلیں، پس تم میں سے جو اس مہینے میں موجود ہو وہ روزہ رکھے﴾ [البقرہ: 185] ، اور صحابہ رات کو کھاتے پیتے اور بیویوں کے پاس جاتے جب تک سو نہ جائیں، جب سو جاتے تو ان چیزوں سے رک جاتے، پھر ایک آدمی جسے صرمہ کہا جاتا تھا، دن بھر روزہ رکھ کر کام کرتا رہا، پھر اپنے گھر آیا اور افطار سے پہلے ہی سو گیا، تو صبح روزے کی حالت میں رہ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کے آخری حصے میں اسے سخت نڈھال دیکھا تو فرمایا: ”تمہیں کیا ہوا کہ میں تمہیں نڈھال دیکھ رہا ہوں؟“ اس نے کہا: میں کل دن بھر کام کرتا رہا، پھر آیا اور افطار سے پہلے سو گیا، اور عمر رضی اللہ عنہ بھی آئے جبکہ انہوں نے سو جانے کے بعد اپنی بیوی سے تعلق قائم کر لیا تھا، انہوں نے بھی یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿تمہارے لیے روزے کی رات اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا﴾ [البقرہ: 187] آیت کے آخر تک۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17406]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 132، حدیث 270»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17407
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي الصَّلَاةَ، فَإِذَا جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ سُبِقَ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ الَّذِي يَلِيهِ وَقَدْ سُبِقْتَ بِكَذَا وَكَذَا فَيَقْضِي، قَالَ: فَكُنَّا بَيْنَ رَاكِعٍ وَسَاجِدٍ وَقَائِمٍ وَقَاعِدٍ، فَجِئْتُ يَوْمًا وَقَدْ سُبِقْتُ بِبَعْضِ الصَّلَاةِ، وَأُشِيرَ إِلَيَّ بِالَّذِي سُبِقْتُ بِهِ، فَقُلْتُ: لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا، فَكُنْتُ بِحَالِهُمُ الَّذِي وَجَدْتُهُمْ عَلَيْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ وَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَقَالَ: «مَنِ الْقَائِلُ كَذَا وَكَذَا؟» قَالُوا: مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقَالَ: «قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ فَاقْتَدُوا بِهِ، إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَقَدْ سُبِقَ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ فَلْيُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ صَلَاتَهُ، فَإِذَا فَرَغَ الْإِمَامُ فَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ بِهِ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نماز کے لیے آیا کرتے تھے، تو جب کوئی آدمی آتا اور اس کی کچھ نماز چھوٹ چکی ہوتی، تو اس کے ساتھ والا اسے اشارے سے بتا دیتا کہ تمہاری اتنی اتنی (رکعتیں) چھوٹ چکی ہیں، پھر وہ (بعد میں) پوری کر لیتا، (معاذ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں: تو (ایک ہی وقت میں) ہم میں سے کوئی رکوع میں ہوتا، کوئی سجدے میں، کوئی کھڑا اور کوئی بیٹھا ہوتا، ایک دن میں آیا جبکہ میری کچھ نماز چھوٹ چکی تھی، اور مجھے اشارے سے بتایا گیا کہ کتنی چھوٹی ہے، تو میں نے کہا: میں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو) جس حال میں بھی پاتا ہوں اسی حال میں شامل ہو جاتا ہوں، تو میں اسی حال میں شامل ہو گیا جس حال میں، میں نے انہیں پایا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں کھڑا ہوا اور (باقی) نماز پڑھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”ایسا ایسا کہنے والا کون تھا؟“ صحابہ نے کہا: معاذ بن جبل، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاذ نے تمہارے لیے یہ طریقہ مقرر کیا ہے، تم اس کی پیروی کرو، جب تم میں سے کوئی آئے اور اس کی کچھ نماز چھوٹ چکی ہو، تو وہ امام کے ساتھ اپنی (باقی) نماز پڑھے، پھر جب امام فارغ ہو جائے تو جو اس سے چھوٹ گیا اسے پورا کر لے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17407]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 134، حدیث 271»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17408
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُبِقَ أَحَدُهُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ سَأَلَهُمْ فَأَشَارُوا إِلَيْهِ بِالَّذِي سُبِقَ بِهِ، فَيُصَلِّي مَا سُبِقَ بِهِ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ، فَجَاءَ مُعَاذٌ وَالْقَوْمُ قُعُودٌ فِي صَلَاتِهِمْ، فَقَعَدَ مَعَهُمْ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا سُبِقَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اصْنَعُوا مَا صَنَعَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان میں سے کسی کی نماز کا کچھ حصہ چھوٹ جاتا تو وہ ان سے پوچھتا، تو وہ اسے اشارے سے بتا دیتے کہ کیا چھوٹا ہے، تو وہ پہلے وہی پڑھ لیتا جو چھوٹا تھا، پھر ان کے ساتھ ان کی نماز میں شامل ہو جاتا۔ تو معاذ رضی اللہ عنہ آئے جبکہ لوگ اپنی نماز میں بیٹھے تھے، تو وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو وہ کھڑے ہوئے اور جو چھوٹ گیا تھا اسے پورا کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسا معاذ بن جبل نے کیا ویسا ہی کرو۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17408]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 135، حدیث 272»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں