المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
356. طارق بن شهاب الأحمسي، عن المقداد
طارق بن شہاب احمسی کی سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17702
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ «جَزَّأَنَا عَشَرَةً فِي بَيْتٍ، عَشَرَةً فِي بَيْتٍ، فَكُنْتُ أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ عِنْدَنَا شَاةٌ نَقُوتُهَا»
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تقسیم کیا، دس دس آدمی ایک ایک گھر میں، اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اور ہمارے پاس ایک بکری تھی جس سے ہم گزارا کرتے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17702]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 240، حدیث 568»
حدیث نمبر: 17703
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلْنَا الْمَدِينَةَ عَشَّرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةً عَشَرَةً فِي كُلِّ بَيْتٍ، فَكُنْتُ فِي الْعَشَرَةِ الَّذِينَ كَانَ النَّبِيُّ مِنْهُمْ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا شَاةٌ نَتَجَزَّأُ لَبَنَهَا، فَكُنَّا إِذَا أَبْطَأَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبْنَا، وَبَقَّيْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصِيبَهُ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَلَيْنَا، قَالَ: وَنِمْنَا، فَقَالَ الْمِقْدَادُ: لَقَدْ أَطَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أُرَاهُ يَجِيءُ اللَّيْلَةَ، لَعَلَّ إِنْسَانًا دَعَاهُ، قَالَ: فَشَرِبْتُهُ، فَلَمَّا ذَهَبَ اللَّيْلُ جَاءَ فَدَخَلَ، فَلَمَّا دَخَلَ سَلَّمَ وَلَمْ يَشُدَّ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقَدَحِ، فَلَمَّا لَمْ يَرَ شَيْئًا سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أَطْعَمَنَا اللَّيْلَةَ» فَوَثَبْتُ فَأَخَذْتُ السِّكِّينَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَخَرَجَ شَيْءٌ ثُمَّ شَرِبَ ثُمَّ نَامَ
سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم مدینہ اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گھر میں ہمیں دس دس کی ٹولیوں میں تقسیم کر دیا، تو میں ان دس افراد میں شامل تھا جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے، ہمارے پاس صرف ایک بکری تھی جس کے دودھ کو ہم آپس میں تقسیم کرتے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے پاس آنے میں دیر ہو جاتی تو ہم پی لیتے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کا حصہ باقی رکھتے۔ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیر ہو گئی، ہم سو گئے، تو مقداد نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دیر کر دی ہے، مجھے نہیں لگتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آج رات آئیں گے، شاید کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں بلا لیا ہو، تو میں نے وہ دودھ پی لیا۔ جب رات گزر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے، داخل ہو کر سلام کیا مگر بلند آواز میں نہیں، پھر پیالے کی طرف کھڑے ہوئے، جب کچھ نہ پایا تو خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اے اللہ! جس نے آج رات ہمیں کھلایا اسے تو کھلا۔“ تو میں اٹھا اور چھری لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو کچھ دودھ نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور سو گئے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17703]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 240، حدیث 569»