🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

429. مسعود بن الأسود العدوي " وهو مسعود بن الأسود بن حارثة بن نضلة بن عوف بن عبيد بن عويج بن عدي بن كعب، وأمه العجماء بنت عامر "
سیدنا مسعود بن اسود عدوی رضی اللہ عنہ (آپ مسعود بن اسود بن حارثہ بن نضلہ بن عوف بن عبید بن عویج بن عدی بن کعب ہیں، آپ کی والدہ عجماء بنت عامر تھیں)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17922
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ بِنْتَ مَسْعُودِ ابْنِ الْعَجْمَاءِ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ أَبَاهَا قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ قَطِيفَةً: نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُطَهَّرُ خَيْرٌ لَهَا» ، وَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا
سیدنا مسعود بن عجماء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس مخزومیہ عورت کے بارے میں جس نے ایک چادر چرائی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہم اس کی طرف سے چالیس اوقیہ فدیہ دے دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پاک ہونا اس کے لیے بہتر ہے۔“ اور آپ نے حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17922]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 333، حدیث 791»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17923
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ الْقَطِيفَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَعْظَمْنَا ذَلِكَ، وَكَانَتْ مِنْ قُرَيْشٍ، فَجِئْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُطَهَّرُ خَيْرٌ لَهَا» ، فَلَمَّا سَمِعْنَاها لِينَ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقْنَا إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَكَلَّمْنَاهُ فَقُلْنَا: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ هَذِهِ الْمَرْأَةِ، وَنَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ،» مَا إِكْثَارُكُمْ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ وَقَعَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ اللهِ؟ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ قَرِفَتْ بِمَا نَزَلَتْ بِهِ هَذِهِ لَقَطَعْتُ يَدَهَا" فَيَئِسَ النَّاسُ فَقَطَعَ يَدَهَا
سیدنا مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اس عورت نے وہ چادر چرائی تو (اس بارے میں) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ہمیں یہ بات بہت گراں گزری، اور وہ عورت قریش سے تھی، تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے بات کی، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس کی طرف سے چالیس اوقیہ فدیہ دے دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پاک ہونا اس کے لیے بہتر ہے۔“ جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لہجے میں نرمی محسوس کی تو ہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور ان سے بات کی، ہم نے عرض کیا: اس عورت کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہماری سفارش کیجیے، ہم اس کی طرف سے چالیس اوقیہ فدیہ دے دیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کوشش دیکھی تو ہمارے سامنے خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے معاملے میں، جو اللہ کی ایک لونڈی پر واقع ہوئی ہے، اتنا اصرار کیوں ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی وہی جرم کرتیں جو اس عورت نے کیا ہے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔“ چنانچہ لوگ مایوس ہو گئے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17923]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 333، حدیث 792»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17924
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أُمِّهِ عَائِشَةَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهَا مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَةُ تِلْكَ الْقَطِيفَةَ مِنْ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِقَطْعِهَا أَعْظَمَنَا ذَلِكَ، وَكَانَتِ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ، فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْنَاهُ فَقُلْنَا: نَحْنُ نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَقَالَ: «تُطَهَّرُ خَيْرٌ لَهَا» ، فَلَمَّا سَمِعْنَا لِينَ قَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَيْنَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقُلْنَا لَهُ: كَمْ نَتَكَلَّمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ هَذِهِ الْمَرْأَةِ وَنَحْنُ نَفْدِيهَا بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ،» مَا إِكْثَارُكُمْ عَلَيَّ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ وَقَعَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ اللهِ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَتْ بِالَّذِي نَزَلَتْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ لَأَقَمْتُ عَلَيْهَا الْحَدَّ"
سیدنا مسعود بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے وہ چادر چرائی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو ہمیں یہ بات بہت گراں گزری، اور وہ قریش کی ایک عورت تھی، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے بات کی، ہم نے عرض کیا: ہم اس کی طرف سے چالیس اوقیہ فدیہ دے دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا پاک ہونا اس کے لیے بہتر ہے۔“ جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لہجے میں نرمی محسوس کی تو ہم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے کہا: ہم اس عورت کے معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کب تک بات کرتے رہیں، جبکہ ہم اس کی طرف سے چالیس اوقیہ فدیہ دے رہے ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تم مجھ پر اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے معاملے میں، جو اللہ کی ایک لونڈی پر واقع ہوئی ہے، اتنا اصرار کیوں کر رہے ہو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر رسول اللہ کی بیٹی فاطمہ بھی وہی جرم کرتیں جو اس عورت نے کیا ہے تو میں اس پر بھی یہ حد قائم کر دیتا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17924]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 334، حدیث 793»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں