🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

448. مهران مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم " وقد اختلف في اسمه فقالوا: كيسان أو هرمز، والصواب عندي مهران، لأن الثوري أتقن من رواه "
سیدنا مہران، رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام، رضی اللہ عنہ (آپ کے نام میں اختلاف ہے، کہا گیا: کیسان یا ہرمز؛ امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک صحیح نام مہران ہے، کیونکہ ثوری اس کے راویوں میں زیادہ متقن ہیں)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17961
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ كُلْثُومِ بِنْتُ عَلِيٍّ، - وَأَتَيْتُهَا بِصَدَقَةٍ كَانَ أَمَرَ بِهَا فَقَالَتْ: احْذَرْ شَبَابَنَا، فَإِنَّ مَيْمُونًا أَوْ مِهْرَانًا مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَيْمُونُ - أَوْ مِهْرَانُ - إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ نُهِينَا عَنِ الصَّدَقَةِ، وَإِنَّ مَوَالِينَا مِنْ أَنْفُسِنَا، فَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ»
سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے - عطاء بن سائب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ان کے پاس ایک صدقہ لے کر آیا تھا جس کا حکم دیا گیا تھا - تو انہوں نے فرمایا: ہمارے نوجوانوں کو (اس سے) بچانا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام میمون یا مہران رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میمون - یا مہران - ہم اہلِ بیت پر صدقہ لینا حرام کر دیا گیا ہے، اور ہمارے آزاد کردہ غلام بھی ہم ہی میں شمار ہوتے ہیں، لہٰذا صدقہ مت کھاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17961]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 354، حدیث 836»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17962
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَتْ: إِنَّ مَوْلًى لَنَا يُقَالُ لَهُ: كَيْسَانُ - أَوْ هُرْمُزُ - أَخْبَرَنِي، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَعَانِي فَجِئْتُ فَقَالَ: «يَا فُلَانُ، إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ نُهِينَا أَنْ نَأْخُذَ الصَّدَقَةَ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ»
سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کے پاس صدقے میں سے کچھ بھیجا گیا تو انہوں نے فرمایا: ہمارے ایک آزاد کردہ غلام نے، جسے کیسان - یا ہرمز - کہا جاتا تھا، مجھے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا۔ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا تو میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں، ہم اہلِ بیت پر صدقہ لینا حرام کر دیا گیا ہے، اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں شمار ہوتا ہے، لہٰذا صدقہ مت کھاؤ۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17962]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 354، حدیث 837»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں