المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
494. أبو وائل شقيق بن سلمة، عن المغيرة
ابووائل شقیق بن سلمہ کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18090
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، وَحَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ بَنِي فُلَانٍ فَفَحَّجَ رِجْلَيْهِ فَبَالَ قَائِمًا»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فلاں قبیلے کی کوڑا پھینکنے کی جگہ پر تشریف لائے، پاؤں کھولے اور کھڑے ہو کر پیشاب فرمایا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18090]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 405، حدیث 966»
حدیث نمبر: 18091
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْخَشَّابُ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ، فَجِئْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ رُومِيَّةٌ صَغِيرَةُ الْيَدَيْنِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ تِلْكَ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى.»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کی کوڑا پھینکنے کی جگہ پر کھڑے ہوئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوٹی آستینوں والا رومی جبہ پہن رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس جبے کے نیچے سے نکالا، چہرہ دھویا، سر کا مسح کیا اور موزوں پر مسح فرمایا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18091]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 405، حدیث 967»
حدیث نمبر: 18092
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلَوَيَّةَ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عِيسَى الْعَطَّارُ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ فِي سُبَاطَةِ بَنِي فُلَانٍ فَقَالَ: «يَا مُغِيرَةُ، مَعَكَ مَاءٌ؟» قَالَ: نَعَمْ إِدَوَاةٌ مِنْ مَاءٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى قَدَمَيْهِ وَعَلَيْهِ خُفَّانِ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں قبیلے کی کوڑا پھینکنے کی جگہ پیشاب کیا، پھر فرمایا: ”اے مغیرہ! تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پانی کا ایک برتن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہن رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے پاؤں پر مسح فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزے پہن رکھے تھے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18092]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 405، حدیث 968»
حدیث نمبر: 18093
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، أَنَا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا»
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کی کوڑا پھینکنے کی جگہ تشریف لائے اور کھڑے ہو کر پیشاب فرمایا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18093]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 406، حدیث 969»
حدیث نمبر: 18094
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَمَّادِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْقَادِسِيَّةَ فَانْطَلَقَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، فَلَمَّا دَنَا مِنْ سَرِيرِ رُسْتُمَ وَثَبَ، فَجَلَسَ مَعَهُ عَلَى سَرِيرِهِ فَنَحَرُوا، فَقَالَ لَهُمُ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: مَا الَّذِي تَفْزَعُونَ مِنْ هَذَا؟ أَنَا الْآنَ أَقُومُ فَأَرْجِعُ إِلَى مَا كُنْتُ عَلَيْهِ، وَيَرْجِعُ صَاحِبُكُمْ إِلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ، قَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالَ الْمُغِيرَةُ:" كُنَّا ضُلَّالًا فَبَعَثَ اللهُ فِينَا نَبِيًّا وَهَدَانَا إِلَى دِينِهِ وَرَزَقَنَا فِيمَا رَزَقَنَا حَبَّةً تَكُونُ فِي بِلَادِكُمْ هَذِهِ، فَلَمَّا أَكَلْنَا مِنْهَا وَأَطْعَمْنَا أَهْلَنَا قَالُوا: لَا صَبَرَ لَنَا حَتَّى تُنْزِلُونَا هَذِهِ الْبِلَادَ، قَالُوا: إِذًا نَقْتُلَكُمْ، قَالَ: إِنْ قَتَلْتُمُونَا دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، وَإِنْ قَتَلْنَاكُمْ دَخَلْتُمُ النَّارَ"
ابووائل رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں قادسیہ کی جنگ میں موجود تھا، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، جب وہ رستم کے تخت کے قریب پہنچے تو اچھل کر اس کے تخت پر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئے، تو (دربار والے) بھڑک اٹھے، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم اس سے کیوں گھبرا رہے ہو؟ میں ابھی اٹھ کر اپنی پہلی جگہ واپس چلا جاؤں گا، اور تمہارا ساتھی بھی اپنی جگہ واپس چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا: ہمیں بتاؤ تمہیں یہاں کیا لے آیا؟ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم گمراہ تھے، تو اللہ نے ہم میں ایک نبی بھیجا، اور ہمیں اپنے دین کی طرف ہدایت دی، اور ہمیں جو کچھ عطا کیا اس میں ایک دانہ بھی عطا کیا جو تمہارے اس ملک میں پیدا ہوتا ہے، جب ہم نے اسے کھایا اور اپنے گھر والوں کو کھلایا تو انہوں نے کہا: ہم اب صبر نہیں کر سکتے جب تک تم ہمیں اس ملک میں نہ بسا دو۔ انہوں نے کہا: تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم ہمیں قتل کرو گے تو ہم جنت میں داخل ہوں گے، اور اگر ہم تمہیں قتل کریں گے تو تم جہنم میں داخل ہو گے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18094]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 406، حدیث 970»