🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

515. فضالة بن عمرو الزهراني , عن المغيرة
فضالہ بن عمرو زہرانی کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18152
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَيَّارٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عَمْرٍو الزَّهْرَانِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح فرمایا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18152]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 425، حدیث 1028»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18153
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عَمْرٍو الزَّهْرَانِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ , فَاتَّبَعْتُهُ فَقَالَ: «أَيْنَ تَرَكْتَ النَّاسَ؟» فَقُلْتُ: تَرَكْتُهُمْ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا , فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَنَزَلَ ثُمَّ ذَهَبَ فَتَوَارَى عَنِّي فَاحْتَبَسَ بِقَدْرِ مَا يَقْضِي الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: «أَمَعَكَ مَاءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ , فَصَبَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ , وَمَسَحَ رَأْسَهُ , وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ قَدْ ضَاقَتْ يَدَاهَا فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَرَفَعَهَا عَنْ يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ , وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَخُفَّيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَلَكَ حَاجَةٌ؟» قُلْتُ: لَا , قَالَ: فَرَكِبْنَا حَتَّى أَدْرَكْنَا النَّاسَ"
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل میں تھے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے لوگوں کو کہاں چھوڑا؟“ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں فلاں فلاں جگہ چھوڑا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری بٹھائی اور اتر گئے، پھر چلے گئے اور مجھ سے اوجھل ہو گئے، اتنی دیر رکے رہے جتنی دیر میں آدمی قضائے حاجت کرتا ہے، پھر تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، اپنے سر کا مسح کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شامی جبہ پہن رکھا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے اندر ڈالا اور اسے (جبے کو) اپنے ہاتھوں سے اوپر اٹھا لیا، پھر اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا، اور اپنے سر اور موزوں پر مسح فرمایا۔ پھر فرمایا: ”تمہیں کوئی حاجت ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ فرماتے ہیں: پھر ہم سوار ہوئے یہاں تک کہ لوگوں تک جا پہنچے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 18153]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 425، حدیث 1029»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں