الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
4758. 31- باب قوله: وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (180)
اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر کے بیان میں کہ ”اور وہ لوگ ہرگز یہ گمان نہ کریں جو اس مال میں بخل سے کام لیتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے کہ وہ ان کے لیے بہتر ہے، بلکہ وہ ان کے حق میں سراسر برا ہے؛ قیامت کے دن اس مال کا طوق بنا کر ان کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جس میں انہوں نے بخل کیا تھا، اور آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے“۔
حدیث نمبر: 12107
12107- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من آتاه الله مالا فلم يؤد زكاته مُثِّلَ له ماله شجاعا أقرع، له زبيبتان، يُطَوَّقُه يوم القيامة، يأخذ بِلِهْزِمَتَيْهِ، -يعني بشدقيه- يقول: أنا مالك، أنا كنزك ثم تلا هذه الآية وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إلى آخر الآية.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه البخاري في التفسير (4565) عن عبدالله بن منير، سمع أبا النضر، حدثنا عبدالرحمن، هو ابن عبدالله بن دينار، عن أبيه، عن أبي صالح، عن أبي هريرة فذكره.»
الحكم على الحديث: صحيح