الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4878. 36- باب قوله: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ إِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ (106) فَإِنْ عُثِرَ عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ (107)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں ”اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جائے تو وصیت کے وقت تمہارے باہمی معاملے میں گواہی کے لیے تم ہی میں سے دو عادل شخص ہونے چاہئیں، یا تمہارے علاوہ دوسروں میں سے دو گواہ ہوں اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو اور تمہیں موت کی مصیبت آ پہنچے؛ تم ان دونوں گواہوں کو نماز کے بعد روک لو، پھر اگر تمہیں ان کی صداقت میں شک ہو تو وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی معمولی قیمت (مالی فائدہ) حاصل نہیں کرنا چاہتے خواہ وہ ہمارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اور نہ ہی ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے، کیونکہ اگر ہم ایسا کریں تو یقیناً گناہ گاروں میں سے ہوں گے۔ پھر اگر اس بات کی اطلاع ہو جائے کہ وہ دونوں کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں (یعنی انہوں نے جھوٹی گواہی دی یا خیانت کی ہے)، تو ان لوگوں میں سے جن کا حق مارا گیا ہے دو ایسے شخص جو میت کے قریب ترین وارث ہوں، ان پہلے گواہوں کی جگہ کھڑے ہوں، پھر وہ اللہ کی قسم کھائیں کہ یقیناً ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے، ورنہ ہم یقیناً ظالموں میں سے ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 12301
12301- عن ابن عباس قال: خرج رجل من بنى سهم مع تميم الداري وعدي بن بداء، فمات السهمي بأرض ليس بها مسلم، فلما قدما بتركته فقدوا جاما من فضة مخوصا من ذهب، فأحلفهما رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم وجد الجام بمكة، فقالوا: ابتعناه من تميم وعدي.فقام رجلان من أوليائه، فحلفا لشهادتنا أحق من شهادتهما، وإن الجام لصاحبهم، قال: وفيهم نزلت هذه الآية يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ.
تخریج الحدیث: «صحيح: رواه البخاري في الوصايا (2780) قال: وقال لي علي بن عبد الله، حدثنا ابن أبي زائدة، عن محمد بن أبي القاسم، عن عبد الملك بن سعيد بن جبير، عن أبيه، عن ابن عباس فذكره.وقوله: "قال لي علي بن عبد الله (وهو المديني من شيوخ البخاري)".حكمه الاتصال كما بينتُ سابقا.»
الحكم على الحديث: صحيح