الجامع الكامل سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم دار ابن بشیر
عربی
اردو
5081. 10- باب قوله: إِلَّا آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ (59) إِلَّا امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنَ الْغَابِرِينَ (60) فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ (61) قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُنْكَرُونَ (62) قَالُوا بَلْ جِئْنَاكَ بِمَا كَانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ (63) وَأَتَيْنَاكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ (64) فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ وَاتَّبِعْ أَدْبَارَهُمْ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَدٌ وَامْضُوا حَيْثُ تُؤْمَرُونَ (65) وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَلِكَ الْأَمْرَ أَنَّ دَابِرَ هَؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِينَ (66) وَجَاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ (67) قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ ضَيْفِي فَلَا تَفْضَحُونِ (68) وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلَا تُخْزُونِ (69) قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ (70) قَالَ هَؤُلَاءِ بَنَاتِي إِنْ كُنْتُمْ فَاعِلِينَ (71) لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ (72) فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ (73) فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ (74) إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ (75)
”سوائے لوط کے گھر والوں کے، ہم ان تمام کو یقیناً نجات دینے والے ہیں، بجز ان کی بیوی کے جس کے متعلق ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔ پھر جب لوط کے گھر والوں کے پاس وہ بھیجے ہوئے فرشتے پہنچے تو لوط نے کہا کہ بے شک تم تو ایسے لوگ ہو جن سے میں واقف نہیں۔ انہوں نے کہا بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے، اور ہم آپ کے پاس حق لے کر آئے ہیں اور ہم یقیناً سچے ہیں۔ پس آپ رات کے ایک حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جائیے اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلیے، اور آپ میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور وہیں چلے جائیے جہاں کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اور ہم نے لوط کی طرف اس معاملے کا قطعی فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ اور شہر والے (مہمانوں کی آمد پر) خوشیاں مناتے ہوئے آپہنچے۔ لوط نے کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں، سو مجھے رسوا نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو اور مجھے ذلیل نہ کرو۔ وہ کہنے لگے کہ کیا ہم نے آپ کو دنیا بھر کے لوگوں کی طرفداری سے منع نہیں کیا تھا؟ لوط نے کہا کہ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری (قوم کی) بیٹیاں حاضر ہیں۔ (اے نبی!) آپ کی عمر کی قسم! بے شک وہ اپنی مستی میں اندھے ہو کر بھٹک رہے تھے۔ پھر سورج نکلتے ہی انہیں ایک سخت چنگھاڑ نے آپکڑا، تو ہم نے اس بستی کے بلند حصے کو اس کا پست حصہ بنا دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔ بے شک اس میں علامات و آثار سے حقیقت پہچاننے والوں کے لیے یقیناً بڑی نشانیاں ہیں۔“
حدیث نمبر: A437
في هذه الآيات الكريمة يذكر الله تعالى قصة لوط عليه السلام، وهو ابن أخي إبراهيم عليه السلام، خرج مع عمه من العراق إلى الكنعانيين أرض فلسطين والشام، فتوجه إبراهيم عليه السلام إلى مصر، وبعث الله لوطا عليه السلام لهداية أهل السدوم التي تقع جنوب البحر الميت، وكان أهلها ابتلوا بإتيان الذكور دون النساء.