🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

26. -- باب التطهر في أواني المشركين إذا لم يعلم نجاسة
-- باب: مشرکین کے برتنوں سے پاکی حاصل کرنے کا بیان جب ان کی نجاست کا علم نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 126
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سَرَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، فَأَصَابَهُ عَطَشٌ شَدِيدٌ، فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحْسَبُهُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ أَوْ غَيْرَهُمَا قَالَ:" إِنَّكُمَا سَتَجِدَانِ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا امْرَأَةً مَعَهَا بَعِيرٌ عَلَيْهِ مَزَادَتَانِ فَأْتِيَانِي بِهَا" فَأَتَيَا الْمَرْأَةَ فَوَجَدَاهَا قَدْ رَكِبَتْ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ عَلَى الْبَعِيرِ فَقَالَا لَهَا: أَجِيبِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللهِ، هَذَا الصَّابِئُ؟ قَالَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ وَهُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَجَاءَا بِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُعِلَ فِي إِنَاءٍ مِنْ مَزَادَتَيْهَا، ثُمَّ قَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ أَعَادَ الْمَاءَ فِي الْمَزَادَتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِعَزْلَاءِ الْمَزَادَتَيْنِ فَفُتِحَتْ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ فَمَلَئُوا آنِيَتَهِمْ وَأَسْقِيَتَهُمْ، فَلَمْ يَدَعُوا يَوْمَئِذٍ إِنَاءً وَلَا سِقَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ. قَالَ عِمْرَانُ: فَكَانَ يُخَيَّلُ إِلِيَّ أَنَّهَا لَمْ تَزْدَدْ إِلَّا امْتِلَاءً. قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِهَا فَبُسِطَتْ، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَجَاءُوا مِنْ زَادِهِمْ حَتَّى مَلَئُوا لَهَا ثَوْبَهَا، ثُمَّ قَالَ لَهَا:" اذْهَبِي، فَإِنَّا لَمْ نَأْخُذْ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللهَ سَقَانَا". قَالَ: فَجَاءَتْ أَهْلَهَا، فَأَخْبَرَتْهُمْ ⦗٥٢⦘ فَقَالَتْ: جِئْتُكُمْ مِنْ أَسْحَرِ النَّاسِ أَوْ إِنَّهُ لِرَسُولُ اللهِ حَقًّا قَالَ: فَجَاءَ أَهْلُ ذَلِكَ الْحِوَاءِ حَتَّى أَسْلَمَوا كُلُّهُمْ. مُخَرَّجٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، وَفِيهِ: فَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ". وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں گئے، انھیں سخت پیاس لگ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی آئے۔ میرا گمان ہے کہ وہ علی اور زبیر رضی اللہ عنہما تھے یا شاید ان کے علاوہ کوئی اور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں فلاں جگہ پر ایک عورت کو پاؤ گے اس کے پاس اونٹ ہوگا، اس پر دو مٹکے ہوں گے، تم دونوں اس کو میرے پاس لاؤ۔“ وہ دونوں عورت کے پاس آئے۔ انھوں نے اس کو دیکھا وہ عورت اونٹ پر دو مٹکوں کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی، انھوں نے اس سے کہا: آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا رہے ہیں، وہ کہنے لگی: کون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ یہی بے دین! (معاذ اللہ) انھوں نے کہا: وہی ہیں جو تم مراد لے رہی ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں، وہ دونوں اس کو لے کر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مٹکوں سے پانی نکالو اور اس پر کچھ پڑھا۔ پھر پانی کو اس کے مٹکوں میں واپس لوٹا دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مشکیزوں کا حکم دیا، ان کو کھولا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا، انھوں نے اپنے برتنوں اور مشکیزوں کو بھر لیا اور لوگوں نے اس دن کوئی برتن اور مشکیزہ خالی نہیں چھوڑا۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خیال تھا کہ زیادہ بھر گیا ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو پھیلانے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اپنا زادِ راہ لے کر آئیں۔ انھوں نے زادِ راہ سے کپڑے کو بھر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: ”جاؤ، ہم نے آپ کے پانی میں سے کچھ نہیں لیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم کو پلا دیا ہے۔“
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ عورت اپنے اہل و عیال کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میں سب سے بڑے جادوگر کے پاس سے آئی ہوں یا پھر وہ یقیناً اللہ کے برحق رسول ہیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر حواء بستی والے آئے اور سب مسلمان ہو گئے۔
اور اس (روایت) میں ہے کہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو جو جنابت کی حالت میں تھا، پانی کا ایک برتن دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔“ اور وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی جو اس کے پانی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 126]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 337»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 127
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَاهُ بِزِيَادَتِهِ.
عوف رحمہ اللہ پچھلی روایت کے ہم معنی کچھ الفاظ کی زیادتی کے ساتھ یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 127]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الحاكم 3/213»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 128
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، نا عَبْدُ الْأَعْلَى، أنا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيلُ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ، فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ"، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ: فَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا.
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد کرتے تھے، ہمیں مشرکوں کے برتن اور ان کے مشکیزے مل جاتے تو ہم ان سے فائدہ اٹھاتے تھے، یہ ان کے لیے کوئی عیب والی بات نہیں ہوتی تھی۔
(ب) اور ابن عبدان کی روایت میں ہے کہ ہم پر کوئی عیب نہیں لگایا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 128]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابو داؤد 3838»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَاءِ نَصْرَانِيَّةٍ فِي جَرَّةِ نَصْرَانِيَّةٍ".
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نصرانی کے مٹکے میں موجود پانی سے وضو کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 129]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه المولف في سننه الصغري 221»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 130
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثُونَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ - وَلَمْ أَسْمَعْهُ - عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا كُنَّا بِالشَّامِ أَتَيْتُ عُمَرَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ جِئْتَ بِهَذَا؟ فَمَا رَأَيْتُ مَاءَ بِئْرٍ وَلَا مَاءَ سَمَاءٍ أَطْيَبَ مِنْهُ؟" قَالَ: قُلْتُ: مِنْ بَيْتِ هَذِهِ الْعَجُوزِ النَّصْرَانِيَّةِ. فَلَمَّا تَوَضَّأَ أَتَاهَا فَقَالَ:" أَيَّتُهَا الْعَجُوزُ، أَسْلِمِي تَسْلَمِي، بَعَثَ اللهُ بِالْحَقِّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَكَشَفَتْ رَأْسَهَا فَإِذَا مِثْلُ الثُّغَامَةِ. قَالَتْ: وَأَنَا أَمُوتُ الْآنَ؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ:" اللهُمَّ اشْهَدْ".
زید بن اسلم کے والد کہتے ہیں کہ جب ہم شام میں تھے تو میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پانی لے کر آیا، آپ نے اس سے وضو کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو اس کو کہاں سے لایا ہے؟ میں نے نہ کسی کنویں کا پانی اور نہ آسمان (بارش) کا پانی اس سے زیادہ عمدہ دیکھا ہے۔ زید بن اسلم کے باپ کہتے ہیں: میں نے کہا: اس نصرانی بڑھیا عورت کے گھر سے (لایا ہوں)۔ جب آپ نے وضو کیا تو اس عورت کے پاس آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بڑھیا عورت! مسلمان ہوجا تو محفوظ ہوجائے گی، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: اس نے اپنا سر ننگا کیا تو اس کا سر ثغامہ پھول کی طرح سفید ہوچکا تھا، اس عورت نے کہا: اب میں مر جاؤں؟ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! تو گواہ ہوجا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 130]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه المولف في المعرفة 41»

الحكم على الحديث: ضعيف: أخرجه المولف في المعرفة 41
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 131
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُوَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي أَنْ يَشْرَبَ فِي الْإِنَاءِ لِلنَّصْرَانِيِّ". فَقَدْ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِبْرَاهِيمُ الْخُوزِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، ثُمَّ هُوَ مَحمُولٌ عَلَى التَّنْزِيهِ بِمَا مَضَى.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصاریٰ کے برتنوں میں پینے سے پرہیز کرتے تھے۔
(ب) ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم بن یزید خوزی، ابن ابی ملیکہ سے بیان کرنے میں متفرد ہے۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابراہیم کی حدیث قابل حجت نہیں۔
(د) پھر یہ روایت جو ابھی گزری ہے نہی تنزیہی پر محمول ہوگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 131]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا»

الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں