🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

80. -- باب: كيفية التخليل
-- باب: خلال کے طریقے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 360
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، ح. قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، قَالَا: سَمِعْتُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدَلِّكُ بِخِنْصَرِهِ مَا بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ".
یزید بن عمرو معافری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابو عبد الرحمن حبلی رحمہ اللہ سے سنا کہ مستورد بن شداد قرشی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھوٹی انگلی کے ساتھ اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 360]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطحاوي في شرح المعاني 1/36»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ بِالرِّيِّ، أنا أَحْمَدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكًا يُسْأَلُ عَنْ تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ فِي الْوُضُوءِ؟ فَقَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ. قَالَ: فَتَرَكْتُهُ حَتَّى خَفَّ النَّاسُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدَ اللهِ، سَمِعْتُكَ تُفْتِي فِي مَسْأَلَةِ تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَيْنِ، زَعَمْتَ أَنْ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، وَعِنْدَنَا فِي ذَلِكَ سُنَّةٌ، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ فَقُلْتُ: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدَلِّكُ بِخِنْصَرِهِ مَا بَيْنَ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ". فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمَا سَمِعْتُ بِهِ قَطُّ إِلَّا السَّاعَةَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَمَرَ بِتَخْلِيلِ الْأَصَابِعِ. قَالَ عَمِّي: مَا أَقَلَّ مَنْ يَتَوَضَّأُ إِلَّا وَيُحِيطُهُ الْخَطُّ الَّذِي تَحْتَ الْإِبْهَامِ فِي الرِّجْلِ، فَإِنَّ النَّاسَ يُثْنُونَ إِبْهَامَهُمْ عِنْدَ الْوُضُوءِ، وَمَنْ تَفَقَّدَ ذَلِكَ سَلِمَ".
ابن عبد الرحمٰن بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے چچا سے سنا اور انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ سے سنا کہ ان سے وضو میں پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ لوگوں پر (فرض) نہیں ہے۔“ وہ فرماتے ہیں: میں نے اس کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ جب لوگوں کی بھیڑ چھٹ گئی تو میں نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ! میں نے آپ کے متعلق سنا ہے کہ آپ پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ لوگوں پر (ضروری) نہیں ہے، جبکہ ہمارے پاس اس بارے میں ایک سنت (حدیث) موجود ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: مستورد بن شداد قرشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ”اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اپنی چھوٹی انگلی سے خلال کرتے تھے۔“ انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ اچھی حدیث ہے“، اور میں نے اس سے پہلے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔ پھر میں نے اس کے بعد سنا کہ جب ان سے پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا حکم دیا۔ میرے چچا فرماتے ہیں: بہت کم ایسے لوگ ہیں جو وضو کرتے ہوں اور ان کے پاؤں کے انگوٹھے کی نچلی جانب بال برابر جگہ خشک نہ رہ جائے، کیونکہ عام لوگ وضو کرتے ہوئے اپنے انگوٹھے موڑ لیتے ہیں، تو جس نے اس کا خلال کیا وہ اس غلطی سے بچ گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ابي حاكم في مقدمة الجرح والتحديل 1/31»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں