السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. -- باب: كراهية الزيادة على الثلاث
-- باب: تین بار سے زیادہ دھونے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 373
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقُوهْيَارِيُّ، قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ، فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ أَوْ تَعَدَّى وَظَلَمَ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ مَوْصُولًا.
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے وضو کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تین تین مرتبہ کر کے دکھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وضو (کا طریقہ) ہے، جو اس سے زیادہ کرے گا وہ نافرمان ہوگا یا حد سے بڑھے گا اور ظلم کرے گا۔“
(ب) امام ثوری سے موصولاً روایت ہے۔ [حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر: 174] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 373]
(ب) امام ثوری سے موصولاً روایت ہے۔ [حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر: 174] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 373]
حدیث نمبر: 374
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ الطُّهُورُ؟ فَدَعَا بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ فَأَدْخَلَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّاحَتَيْنِ فِي أُذُنَيْهِ، وَمَسَحَ بِإِبْهَامَيْهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيْهِ، وَبِالسَّبَّاحَتَيْنِ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا الْوُضُوءُ، فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا أَوْ نَقَصَ فَقَدْ أَسَاءَ وَظَلَمَ أَوْ ظَلَمَ وَأَسَاءَ". قَوْلُهُ نَقَصَ يَحْتَمِلُ أَنْ يُرِيدَ بِهِ نُقْصَانَ الْعُضْوِ، وَقَوْلُهُ ظَلَمَ يَعْنِي جَاوَزَ الْحَدَّ. وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وضو کس طرح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن منگوایا، اپنی ہتھیلیوں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے بازوؤں کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا تو اپنی دونوں سبابہ انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کیں اور اپنے انگوٹھوں کے ساتھ کانوں کے باہر والے حصے پر مسح کیا اور شہادت کی انگلیوں کے ساتھ اپنے کانوں کے باطنی حصوں پر بھی، پھر اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا: ”اس طرح وضو (کا طریقہ) ہے، جو اس سے زیادہ کرے یا کم کرے اس نے نافرمانی کی اور ظلم کیا یا فرمایا: ظلم کیا اور نافرمانی کی۔“
(ب) «نَقَصَ» میں احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد عضو کا نقصان ہے اور «ظَلَمَ» سے مراد اللہ تعالیٰ کی حد سے تجاوز کرنا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 374]
(ب) «نَقَصَ» میں احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد عضو کا نقصان ہے اور «ظَلَمَ» سے مراد اللہ تعالیٰ کی حد سے تجاوز کرنا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 374]
تخریج الحدیث: «حسن دون قوله أونقص»
الحكم على الحديث: حسن دون قوله أونقص