السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. -- باب: وجوب الاستنجاء بثلاثة أحجار
-- باب: تین پتھروں سے استنجاء کرنے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 497
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا لِغَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلْيَسْتَنْجِ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ، وَأَنْ يسْتَنْجِيَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے باپ کی مثل ہوں، جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ اپنا منہ اور پیٹھ قبلے کی طرف نہ کرے اور تین پتھروں سے استنجا کرے اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کیا اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے بھی منع فرمایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 497]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه أبو داؤد 8»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 498
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ مِثْلَ إِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ".
محمد بن عجلان اسی سند سے بیان کرتے ہیں مگر فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کیا اور تین ڈھیلوں کا حکم دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 498]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن ماجه 313»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 499
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالُوا لِسَلْمَانَ: قَدْ عَلَّمَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ؟ فَقَالَ:" أَجَلْ، قَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَنَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَانَا أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِيعٍ أَوْ بِعَظْمٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فَذَكَرَهُ، وَفِيهِ قَالَ: لَا يسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ.
عبد الرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تمہارا نبی تم کو ہر چیز سکھلاتا ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی؟“ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں! یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو منع کیا کہ ہم قضائے حاجت یا پیشاب کرتے وقت اپنا منہ قبلے کی طرف کریں، اور تین ڈھیلوں سے کم استعمال کرنے سے بھی منع کیا، اور گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی منع فرمایا۔“
(ب) ایک روایت میں ہے کہ: ”تم میں سے کوئی تین ڈھیلوں سے کم سے استنجا نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 499]
(ب) ایک روایت میں ہے کہ: ”تم میں سے کوئی تین ڈھیلوں سے کم سے استنجا نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 499]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 262»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 500
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ بِالْكُوفَةِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ⦗١٦٧⦘ قُرْطٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَلْيَذْهَبْ مَعَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لِيَسْتَطِيبَ بِهِنَّ، فَإِنَّهَا تَجْزِي عَنْهُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سے کوئی قضائے حاجت کو جائے تو اپنے ساتھ تین ڈھیلے لے جائے، ان کے ساتھ استنجا کرے تو وہ اسے کفایت کر جائیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 500]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 4»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 501
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ:" بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ". قَالَ أَبُو دَاودَ: كَذَا رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، وَوَكِيعٌ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ، عَنْ عُمَارَةَ وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، يَقُولُ: الصَّوَابُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى:.
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجا کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین ڈھیلوں“ کا فرمایا، لیکن اس میں گوبر سے منع کیا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ایک جماعت کا ہشام کا عمرو بن خزیمہ سے روایت کرنا درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 501]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی بن مدینی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ایک جماعت کا ہشام کا عمرو بن خزیمہ سے روایت کرنا درست ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 501]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 41»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 502
وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ مَرَّةً عَنْ هِشَامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خُزَيْمَةَ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ الْبُخَارِيُّ: أَخْطَأَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، إِذْ زَادَ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى عَبْدَةُ وَوَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ، عَنْ خُزَيْمَةَ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَأَبُو خُزَيْمَةَ هُوَ عَمْرُو بْنُ خُزَيْمَةَ.
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو معاویہ اسی پچھلی روایت کی طرح بیان فرماتے ہیں۔
(ب) امام ابوعیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب ابو معاویہ اس سند میں عبدالرحمن بن سعد کا اضافہ کرتے ہیں تو وہ غلطی کرتے ہیں۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیح سند یہ ہے: «عَبْدَةُ وَوَكِيْعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ خُزَيْمَةَ» ”عبدہ اور وکیع ہشام بن عروہ سے، وہ ابو خزیمہ سے، وہ عمارہ بن خزیمہ سے اور وہ خزیمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔“
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو خزیمہ سے مراد عمرو بن خزیمہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 502]
(ب) امام ابوعیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: جب ابو معاویہ اس سند میں عبدالرحمن بن سعد کا اضافہ کرتے ہیں تو وہ غلطی کرتے ہیں۔
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیح سند یہ ہے: «عَبْدَةُ وَوَكِيْعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي خُزَيْمَةَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ عَنْ خُزَيْمَةَ» ”عبدہ اور وکیع ہشام بن عروہ سے، وہ ابو خزیمہ سے، وہ عمارہ بن خزیمہ سے اور وہ خزیمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔“
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو خزیمہ سے مراد عمرو بن خزیمہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 502]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 503
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ، ثنا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْحَنْظَلِيَّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ:" ايتِنِي بِحَجَرٍ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین پتھر لانے کا حکم دیا تو میں دو پتھر اور ایک گوبر لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر لے لیے اور گوبر پھینک دیا اور فرمایا: ”میرے پاس پتھر لے کر آؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 503]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف