السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
127. -- باب: الاستنجاء بما يقوم مقام الحجارة في الإنقاء دون ما نهي عن الاستنجاء به
-- باب: صفائی حاصل کرنے میں پتھر کے قائم مقام اشیاء سے استنجاء کرنے کا بیان ماسوائے ان چیزوں کے جن سے استنجاء کی ممانعت وارد ہے
حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدَاوَةٍ لِوُضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ وَقَالَ: فَأَدْرَكَهُ يَوْمًا فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟". قَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ:" ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا، وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ، وَلَا رَوْثٍ". فَأَتَيْتُهُ بِأَحْجَارٍ فِي ثَوْبِي، فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى إِذَا فَرَغَ وَقَامَ تَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثِ؟ فَقَالَ:" أَتَانِي وَفْدُ نَصِيبِينَ فَسَأَلُونِي الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللهَ لَهُمْ أَنْ لَا يَمُرُّوا بِرَوْثَةٍ وَلَا بِعَظْمٍ إِلَّا وَجَدُوا عَلَيْهِ طَعَامًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے پانی کا برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک دن پایا تو پوچھا: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے پتھر تلاش کرو تاکہ میں استنجا کروں اور میرے پاس ہڈی اور گوبر نہ لانا۔“ میں اپنے کپڑوں میں پتھر لایا وہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں رکھ دیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے اور کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رہا۔
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 524]
میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انہوں نے مجھ سے زادِ راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3647»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 525
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْمُقْرِئُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ الْمَازِنِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْمِلُ إِدَاوَتِي، فَأَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُرِيدُ الْحَاجَةَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى مُخْتَصَرًا دُونَ سُؤَالِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَدُونَ ذِكْرِ الْجِنِّ مِنْ نَصِيبِينَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک برتن اٹھائے ہوئے نکلا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کا ارادہ رکھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 526
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ، وَلَكِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلِمَ الْغَائِطَ، فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ. قَالَ: فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ، وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ، فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً وَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ، وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ:" هَذَا رِكْسٌ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، فَرَوَاهُ زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا، وَاعْتَمَدَهُ الْبُخَارِيُّ وَوَضَعَهُ فِي الْجَامِعِ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ:" ايْتِنِي بِحَجَرٍ". وَرَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي ⦗١٧٥⦘ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ عِنْدِي أَثْبَتُ وَأَصَحُّ لِأَنَّ إِسْرَائِيلَ أَثْبَتُ فِي أَبِي إِسْحَاقَ مِنْ هَؤُلَاءِ، وَتَابَعَهُ عَلَى ذَلِكَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَقَالَ: وَزُهَيْرٌ فِي أَبِي إِسْحَاقَ لَيْسَ بِذَلِكَ لِأَنَّ سَمَاعَهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ فِي آخِرِهِ، وَأَبُو إِسْحَاقَ فِي آخِرِ أَمْرِهِ كَانَ قَدْ سَاءَ حِفْظُهُ.
سیدنا عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس تین پتھر لے کر آؤں، مجھے دو پتھر مل گئے اور تیسرے کو میں نے تلاش کیا تو وہ نہ ملا، پھر میں نے گوبر لیا اور اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دونوں پتھر لے لیے اور گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا: ” «هَذَا رِكْسٌ» یہ پلید ہے۔“
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اسرائیل کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اسرائیل ابو اسحاق سے روایت کرنے میں ان سب سے زیادہ پختہ ہیں اور قیس بن ربیع نے اس پر ان کی متابعت کی ہے۔ اور فرمایا: زہیر ابو اسحاق سے روایت میں اتنے قوی نہیں، کیونکہ انہوں نے ابو اسحاق سے آخر میں سنا اور ابو اسحاق کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہو گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 526]
امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک اسرائیل کی روایت زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اسرائیل ابو اسحاق سے روایت کرنے میں ان سب سے زیادہ پختہ ہیں اور قیس بن ربیع نے اس پر ان کی متابعت کی ہے۔ اور فرمایا: زہیر ابو اسحاق سے روایت میں اتنے قوی نہیں، کیونکہ انہوں نے ابو اسحاق سے آخر میں سنا اور ابو اسحاق کا حافظہ آخری عمر میں خراب ہو گیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 100»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 527
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ:" ايتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ، وَلَا تُقَرِّبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا". ⦗١٧٦⦘ وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ إِنْ صَحَّتْ تُقَوِّي رِوَايَةَ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، إِلَّا أَنَّ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی چیز لے کر آؤ جس سے میں استنجا کروں اور میرے پاس گوبر نہ لانا۔“
یہ روایت اگر صحیح ہو تو عبدالرحمن بن اسود سے ابو اسحاق کی روایت کو تقویت دیتی ہے، مگر لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 527]
یہ روایت اگر صحیح ہو تو عبدالرحمن بن اسود سے ابو اسحاق کی روایت کو تقویت دیتی ہے، مگر لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه احمد 1/426»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاودَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَاءَ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ. قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَدْنَاكَ، فَطَلَبْنَاكَ، فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ. قَالَ:" أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ". قَالَ:" فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ"، وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ:" كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ". فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى هَكَذَا..
عامر سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ سے سوال کیا: کیا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جنوں والی رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا جنوں والی رات تم میں سے کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے آپ کو گم پایا تو ہم نے آپ کو وادیوں اور ٹیلوں میں تلاش کیا، پھر ہم نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اڑا لیا گیا ہے یا اغوا کر لیا گیا ہے، ہم نے وہ رات اتنی بری گزاری کہ کسی قوم نے ایسی بری رات نہ گزاری ہو گی۔ جب ہم نے صبح دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء کی طرف سے آ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا اور آپ کو بہت تلاش کیا، لیکن ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈ نہ سکے۔ اور ہم نے ایسی بری رات گزاری کہ کسی قوم نے ایسی بری رات نہ گزاری ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جنوں کے داعی آئے تھے، میں ان کے ساتھ چلا گیا اور میں نے ان پر قرآن پڑھا“۔ راوی کہتا ہے: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ساتھ لے کر گئے اور ہمیں ان کے نشانات اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کا سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو گوشت سے بھرپور ہو گی، اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارہ ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے (جن) بھائیوں کا کھانا ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 450»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 529
وَرَوَاهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ:" وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ". قَالَ الشَّعْبِيُّ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ، وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ مُفَصَّلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، فَذَكَرَهُ.
داؤد بن ابو ہند رحمہ اللہ اسی سند سے «وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ» تک بیان کرتے ہیں۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کا سوال کیا اور وہ جزیرہ کے جن تھے۔ حدیث کا باقی حصہ شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ کر کے بیان کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 529]
(ب) شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کا سوال کیا اور وہ جزیرہ کے جن تھے۔ حدیث کا باقی حصہ شعبی رحمہ اللہ کا قول ہے جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے الگ کر کے بیان کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 1/45»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 530
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاودَ، إِلَى قَوْلِهِ:" وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ". ثُمَّ قَالَ: قَالَ دَاودُ: وَلَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ عَلْقَمَةَ أَوْ فِي حَدِيثِ عَامِرٍ أَنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الزَّادَ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاودَ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ دَاودَ مُدْرَجًا فِي الْحَدِيثِ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ.
محمد بن ابو عدی، داؤد سے «وَآثَارِ نِيرَانِهِمْ» تک بیان کرتے ہیں، پھر فرماتے ہیں کہ داؤد نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ علقمہ کی حدیث میں ہے یا عامر کی حدیث میں کہ انہوں نے اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زادِ راہ کا سوال کیا، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 531
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ انْهَ أُمَّتَكَ أَنْ يَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ لَنَا فِيهَا رِزْقًا. قَالَ: فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جنوں کا وفد آیا، انہوں نے کہا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنی امت کو منع کریں کہ وہ ہڈی اور گوبر یا کوئلہ سے استنجا نہ کریں، اس لیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے رزق رکھ دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد 39»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 532
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: حَدَّثَكَ مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِعَظْمِ حَائِلٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ". عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ لَمْ يَثْبُتْ سَمَاعُهُ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَالْأَوَّلُ إِسْنَادٌ شَامِيُّ غَيْرُ قَوِيٍّ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ بْنِ سَنَةَ الْخُزَاعِيِّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ فِي رِوَايَتِهِمَا ذِكْرُ الْحُمَمَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بوسیدہ ہڈی، گوبر اور کوئلہ سے استنجا کرنے“ سے منع کیا ہے۔
(ب) علی بن رباح کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ پہلی سند جو شامی ہے وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
(ج) ابو عثمان بن سنہ خزاعی اور عبدالرحمن بن رافع تنوخی کی روایت جو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے اس میں کوئلے کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 532]
(ب) علی بن رباح کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ پہلی سند جو شامی ہے وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔
(ج) ابو عثمان بن سنہ خزاعی اور عبدالرحمن بن رافع تنوخی کی روایت جو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہے اس میں کوئلے کا ذکر نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 532]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الدار قطني 1/55، 56»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاودَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ:" نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَوْحٍ. وَرُوِّينَا فِيهِ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابو زبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو منع کیا کہ ”ہم ہڈی یا اونٹی کی مینگنی سے استنجا کریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 533]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 263»
الحكم على الحديث: صحيح